سعودی بادشاہ کی توہین، مصری وکیل کو کوڑوں کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شاہ عبداللہ پر نکتہ چینی کےلیے مصری وکیل کو سزا سنائی گئی ہے

مصر کی وزارت خارجہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کو بدنام کرنے کے جرم میں قید اپنے ایک مصری وکیل کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

احمد الغزاوی کو گزشتہ ہفتے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ عمرہ کے لیے جدہ پہنچے۔

احمد الغزاوی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ سعودی عرب کی کوئی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں انہیں ایک برس قید اور بیس کوڑوں کی سزا سنا چکی ہے۔ انہیں جمعہ کو کوڑے مارے جائیں گے۔

اس سزا کے خلاف مصر بھر میں سعودی عرب کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

مصر کے وزیر خارجہ کے ترجمان نے نیوز ایجنسی منا کو بتایا کہ وزیر خارجہ ’اس کیس کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کی وجوہات پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ احمد الغزاوی نے سعودی عرب کی جیلوں میں پڑے مصری قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواستیں دائر کرتے تھے۔

مصر میں حقوق انسانی کی تنظیم ’دی عربک نیٹ ورک فار ہیومن راٹس انفارمیشن‘ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سزا سعودی حکومت پر نکتہ چینی کرنے کے لیے دی جا رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق الغزاوی نے سعودی عرب کی سرزمین پر رہنے والے مصریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے سعودی پر نکتہ چینی کی تھی، جن مصری شہریوں کو حراست میں رکھا گيا ہے ان کی رہائی کے لیے پر زور آواز آٹھائی تھی اور اس کے لیے خود سعودی باد شاہ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔‘

لوگوں کو زیادہ غصہ اس بات پر ہے کہ چونکہ احمد الغزاوی سعودی عرب مذہبی فریصہ عمرہ کو ادا کرنے گئے تھے اس لیے انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت مکّہ اور مدینہ کے مقدس مقامات پر کنٹرول کا غلط فائدہ اٹھا رہی ہے۔

مصر میں ایک اسلامی کار کن عماد عرب کا کہنا تھا کہ مکہ پر کنٹرول کو سعودی عرب سیاسی مسائل کے لیے ہرگز استعمال نہ کرے۔

اسی بارے میں