اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیال ہے کہ اِس وقت اسرائیل کی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں

اسرائیل میں جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ تیرہ سو سے زائد فلسطینی قیدی گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل ’انتظامی حراست‘ اور قیدِ تنہائی کی اپنی متنازع پالیسی کو ختم کرے۔ فلسطینی قیدیوں کی حراست اور قیدِ تنہائی اکثر کئی ماہ تک جاری رہتی ہے۔

خیال ہے کہ اِس وقت اسرائیل کی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں اکثر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسند گروپوں سے ہے جبکہ سینکڑوں ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں بغیر کسی مقدمے کے غیر معینہ مدت کے لیے قید میں رکھا جا رہا ہے۔

فلسطینی قیدیوں نے غیر معینہ حراست کے خلاف اور جیل میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے آٹھ روز قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

منگل کو اسرائیل کے جیل کے حکام نے بتایا تھا کہ تیرہ سو پچاس فلسطینی قیدی اب بھی کھانے سے انکار کر رہے ہیں جبکہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم پریزن سپورٹ گروپ کے مطابق قیدی پانی اور نمک کا استعمال کر رہے ہیں۔

اسرائیل جیل سروس کے مطابق جن قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی ہے ان میں سے اکثریت کا تعلق حماس، پاپولر رزسٹنس کمیٹی اور اسلامک جہاد سے ہے اور انہیں اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام بھوک ہڑتالیوں کو سزا کے طور پر ان کے خاندان والوں سے ملنے نہیں دے رہے اور ان افراد کو دوسرے قیدیوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے ان قیدیوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی اس طرح کی بھوک ہڑتال سے نمٹ چکا ہے اور آئندہ بھی نمٹ لے گا۔