چین: نظر بند حکومت مخالف وکیل فرار

شین گوان شین تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شین گوان شین تو گھر سے فرار ہوگئے ہیں لیکن انکی اہلیہ اور انکے بچے ابھی وہیں ہیں

چین میں انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف وکیل شین گوانشین جنہیں صوبہ شینڈاگ میں واقع ان کےگھر پر نظربند کیا گیا تھا، وہاں سے فرار ہوگئے ہیں۔

سنہ دو ہزار دس میں جیل سے رہا ہونے کے بعد سے وہ اپنےگھر میں نظر بند تھے۔

ابھی یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں لیکن چین میں انسانی حقوق کے کارکنان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ شینڈاگ میں واقع اپنے گھر سے فرار ہوگئے ہیں۔

شین کے امریکی دوست باب فو کا کہنا ہے کہ وہ شینڈاگ سے چلے گئے ہیں لیکن ان کی اہلیہ، بیٹی اور ان کی ماں ابھی بھی وہیں ہیں۔ گھر کی نگرانی اور سکیورٹی چینی اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔

انسان حقوق کے سرکردہ کارکن اور شین گوان شین کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی ہیپر یونگ نے مختلف ذرائع کو بتایا ہے کہ وہ انہیں ایک محفوظ مقامات پر چھوڑ کر آئی ہیں۔

اس طرح کی افواہیں بھی ہیں کہ نابینا شین گوان شین اس وقت بیجنگ میں واقع امریکی سفارتخانے میں ہیں۔

واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی تبھی سے مقامی کارکنان اور مفربی ممالک کی نظر ان پر ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس میں شائع ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی سفارتخانہ‘ اس خبر پر کوئی ردعمل نہیں دے گا۔

اسی رپورٹ میں شین گوان شین کی دوست ہیپر یونگ نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے امریکی سفارتخانے میں بعض اہلکاروں سے بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور شینڈاگ صوبے کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں