اسرائیل کے فیصلے پر ناروے کو افسوس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غرب اردن میں یہودی بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کے امکان کو معدوم کرتی ہے:ناروے وزیر خارجہ

ناروے کی حکومت نے غرب اردن میں تین غیر قانونی یہودی بستیوں کو تسلیم کرنے کے اسرائیل حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ جونس گاہر سٹور نے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مسئلہ کے دو ریاستی حل کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اسرائیل کی حکومت نے اپریل کی تئیس تاریخ کو تین یہودی بستیوں کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کی طرف سے انھیں تسلیم کیے جانے کا مطلب یہ ہو گا کہ انھیں غرب اردن میں تین نئی بستیوں کا درجہ مل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس برس میں پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل حکومت نے ’آوٹ پوسٹس‘ کو بستیوں کا درجہ دیا ہے اور ’مجھے تشویش ہے کہ یہ اسرائیل کی پالیسی میں تبدیلی نہ ہو اور یہ دوسری آوٹ پوسٹس کے لیے ایک مثال کے طور پر استعمال کی جائے۔‘

غرب اردن میں یہودی بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کے لیے امکان کو معدوم کرتی ہے اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے بھی منافی ہے۔‘

ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر اور توسیع میں مصروف ہے باوجود اس امر کے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاٌ خلاف ورزی ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیل کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور یہ فیصلہ واپس لے۔