جاپان، امریکہ میں فوج کی منتقلی کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جاپان میں امریکہ کے پچاس ہزار کے قریب فوجی تعینات ہیں

امریکہ اور جاپان جزیرہ اوکیناوا پر تعینات ہزاروں امریکی فوجیوں کی منتقلی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔

اس بات کا اعلان مریکہ اور جاپان کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کیا گیا۔

بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت نو ہزار میرینز کو ’جاپان سے باہر مقامات‘ پر بھیجا جائے گا جبکہ دس ہزار کے قریب فوجی جزیرے پر ہی تعینات رہیں گے۔

یہ نظرِ ثانی شدہ معاہدہ جاپانی وزیراعظم یوشی ہیکو نوڈا کے دورۂ امریکہ سے قبل سامنے آیا ہے تاہم جاپان اور امریکہ تاحال اوکیناوا میں قائم متنازع فوٹینما فوجی اڈے کی بندش پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

اوکیناوا سے منتقل کیے جانے والے امریکی فوجی گوام، ہوائی اور مشرقِ بعید کے خطے میں تعینات کیے جائیں گے۔

جاپان دو ہزار چھ میں اوکیناوا سے متعلق ہونے والے معاہدے کی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اسے فوٹینما ایئر بیس کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنا تھی لیکن جن جگہوں کو متبادل کے طور پر چنا گیا وہاں مقامی سطح پر اس منتقلی کی شدید مخالفت کی گئی۔

رواں سال بات چیت کے آغاز پر دونوں ممالک نے فوجیوں اور فضائی اڈے کی منتقلی کے معاملات کو الگ الگ دیکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

تازہ ترین بیان میں دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ اب بھی متفق ہیں کہ فوٹینما اڈے کو دو ہزار چھ کے معاہدے کے مطابق ناہا کے شمال میں واقع علاقے کیمپ شواب میں منتقل کر دیا جائے۔ دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والا سب سے قابلِ عمل حل ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جاپان اور امریکہ تاحال اوکیناوا میں قائم متنازع فوٹینما فوجی اڈے کی بندش پر متفق نہیں ہو سکے

اوکیناوا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے نزدیک واقع فوٹینما فوجی اڈہ پرشور اور خطرناک ہے اور اسے جزیرے سے ہی منتقل کر دیا جانا چاہیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس فوجی اڈے کی منتقلی کا معاملہ جاپان اور امریکہ کے اس عسکری اتحاد میں تناؤ پیدا کرنے کی وجہ بھی بنتا رہا ہے جسے دونوں ممالک ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم گردانتے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ اب جاپان سے مل کر اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’جاپان صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک قریبی دوست بھی ہے اور میں اس دوستی اور شراکت کی مزید مضبوطی کے لیے پرامید ہوں‘۔

خیال رہے کہ جاپان میں امریکہ کے پچاس ہزار کے قریب فوجی تعینات ہیں۔

اسی بارے میں