’مانچسٹر کے دکاندار پی آئی اے سے پریشان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برطانوی شہر مانچسٹر میں پاکستان کی قومی ہوائی کمپنی پی آئی اے کے عملے کی مبینہ طور پر دکانوں سے چوری کے واقعات سامنے آنے پر پولیس نے ائر لائن کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

مانچسٹر میں سپر سٹورز کی جانب سے تشویش کا اظہار کیے جانے پر پولیس نے پی آئی اے کے حکام سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

پی آئی اے کے سٹاف پر بڑے سپر سٹورز اور ہوٹلوں سے سامان چورے کرنے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔

پی آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور کسی بھی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث شخص کو نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں مانچسٹر پولیس کےسپرنٹنڈنٹ سٹیورٹ ایلسن کی جانب سے پی آئی اے کے حکام کو ایک ای میل بھیجی گئی تھی جو بعد میں پاکستانی پریس میں شائع ہو گئی۔

اس ای میل کے مطابق’بعض سپر سٹورز اکثر اوقات جہاز کے عملے کو چوری کے الزام میں پکڑتے ہیں اور وہاں سے کم دام یا قیمت والا سامان چوری کیا جاتا ہے۔‘

’جن ہوٹلوں میں جہاز کے عملے کو ٹھہرایا جاتا ہے وہاں سے تولیہ، کیٹلز اورگاؤنز جیسی اشیا چوری کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔‘

پولیس افسر نے ای میل میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سٹورز مالکان جب ان مبینہ چوروں کو پکڑتے ہیں تو ان کا موقف ہوتا ہے کہ وہ برطانوی شہری نہیں ہیں اور اگلے دن انہیں واپس پاکستان جانا ہے۔

پولیس نے ان واقعات میں ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ تحقیقات شروع کی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ سٹیورٹ ایلسن کی جانب سےبھیجی جانے والی ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ’ اگر ہوٹل نے شکایت درج کرا دی تو اس صورت میں پولیس کو کارروائی کرنا ہو گی اور مشتبہ افراد کو حراست میں لینا پڑے گا جس سے آپ کی ساکھ متاثر ہو گی اور متبادل عملے کی عدم موجودگی میں جہاز کی روانگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔‘

چوری کے زیادہ تر واقعات مارکیٹ سٹریٹ اور کراس سٹریٹ کے علاقے میں پیش آئے ہیں۔

پی آئی اے کے شعبہ تعلقات عامہ کے جنرل مینجر سلطان حسن نے بی بی سی سے بات کرتے کہا’ ان الزامات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔‘

’مانچسٹر میں ہمارے دفتر نے چند ہفتے قبل پولیس حکام سے ایک تفصیلی ملاقات کی تھی اور ہمارے نئے مینجر آئندہ چند ہفتوں کے دوران پولیس حکام سے ملاقات کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’جہاز کے عملے کو اس بارے میں باقاعدہ آگاہ کیا جاتا ہے اور ہمارے پاس اس طرح کے معاملے سے نمٹنے کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور اگر کوئی بھی شخص کسی غیر قانونی حرکت میں ملوث پایا گیا تو اس کو نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔‘

سلطان حسن کے مطابق ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی پولیس نے ان واقعات میں ملوث کسی شخص کا نام بتایا ہے اور نہ ہی ان واقعات سے متعلق کوئی ثبوت پیش کیا ہے۔

مانچسٹر پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ہم کمپنی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ہمیں ان کی حمایت حاصل ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔‘

اسی بارے میں