مصر: احتجاج کے بعد سعودی سفارت خانہ بند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب میں قید ایک مصری وکیل کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہروں کے بعد سعودی عرب نے مصر میں اپنا سفارت خانہ اور قونصلیٹ بند کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے مصر سے اپنے سیفر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔

مصری مظاہرین نے انسانی حقوق کے وکیل احمد الغزاوی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب مصر کی حکمران فوجی کونسل نے سعودی عرب کے اس عمل پر حیرت کا اظہار کیا۔

مصر کے خبر رساں ادارے کے مطابق فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین تنتاوی نے اس تنازعے کے حل کے لیے کل سعودی حکومت سے رابطہ بھی کیا۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کو بدنام کرنے کے جرم میں قید احمد الغزاوی کو گزشتہ ہفتے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ عمرہ کے لیے جدہ پہنچے تھے۔

مصر کے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احمد الغزاوی کو سعودی عرب کی جیلوں میں پڑے مصری قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔

احمد الغزاوی کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب عمرہ ادا کرنے گئے تھے تاہم مصر کے لوگوں کو زیادہ غصہ اس بات پر ہے کہ چونکہ احمد الغزاوی سعودی عرب مذہبی فریصہ عمرہ کو ادا کرنے گئے تھے اس لیے انہیں گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے ائیر پورٹ اہلکاروں کو احمد الغزاوی کے سامان سے مبینہ طور پر منشیات ملی ہیں۔

سعودی حکام کو شبہ ہے کہ احمد الغزاوی عمرہ ادا کرنے کے لیے سفید لباس پہن کر نہیں آئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ احمد الغزاوی نے سعودی عرب کی جیلوں میں پڑے مصری قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواستیں دائر کرتے تھے۔

مصر میں حقوق انسانی کی تنظیم ’دی عربک نیٹ ورک فار ہیومن راٹس انفارمیشن‘ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سزا سعودی حکومت پر نکتہ چینی کرنے کے لیے دی جا رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق الغزاوی نے سعودی عرب کی سرزمین پر رہنے والے مصریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے سعودی پر نکتہ چینی کی تھی، جن مصری شہریوں کو حراست میں رکھا گيا ہے ان کی رہائی کے لیے پر زور آواز آٹھائی تھی اور اس کے لیے خود سعودی باد شاہ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

اسی بارے میں