یمن: سابق صدر کےبھتیجےعہدہ چھوڑنے پرراضی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فضائی فوج کے سربراہ اور سابق صدر کے ستیلے بھائی جنرل محمد صالح الاحمر پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

یمن کے سابق صدر کے بھتیجے اور صدارتی گارڈز کے سربراہ جنرل طارق محمد عبد اللہ صالح اپنا عہدہ چھوڑنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

انہیں رواں ماہ چھ اپریل کو بیس دیگر افسران سمیت اپنے عہدے سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

یمن کے موجودہ صدر عبدالربہ منصور ہادی نے ان افسران کو برخاست کرنے کا فیصلہ فوج میں اصلاحات کے اقدامات کے تحت کیا تھا لیکن اس فیصلے کے سنائے جانے کے بعد جنرل طارق نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل منگل کو فضائی فوج کے سربراہ اور سابق صدر کے سوتیلے بھائی جنرل محمد صالح الاحمر نے بھی اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر عبدالربہ منصور ہادی کے سینیئر یمنی فوجی افسران کو تبدیل کرنے کے فیصلے کو یمن کی سیاسی جماعتوں سمیت امریکہ اور آس پاس کے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

اتوار کو یمن میں امریکی سفیر جیرالڈ فیئرسٹائن نے سابقہ حکومت کے ممبران کو خبردار کیا تھا کہ صدر عبدالربہ منصور ہادی کے احکامات کو نظرانداز کرنے کی صورت میں عالمی برادری کسی بھی قسم کے اقدامات کر سکتی ہے۔

تیتیس سال ملک پر حکمرانی کرنے والے علی عبدللہ صالح نے اپنے بےشمار رشتہ دار اور حامی یمنی فوج کے بڑے عہدوں پر تعین کیے تھے۔ ان کے بیٹے اور دیگر حامی ابھی بھی فوج کی طاقت ور یونٹوں کے کمانڈر ہیں۔

اسی بارے میں