ملائشیاء میں احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مظاہرہ ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا تصور کیا جارہا ہے

ملائشیاء کے دارالحکومت کوالا لمپور میں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

ہزاروں افراد شہر کے وسطی علاقے میں انتخابی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کررہے تھے۔ مظاہرے کے شرکاء کا خیال ہے کہ رائج والوقت انتخابی نظام موجودہ وزیراعظم نجیب رزاق کی مخلوط حکومت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

یہ مظاہرہ ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے مظاہروں میں سب سے بڑا تصور کیا جارہا ہے۔

پولیس نے مظاہرین کے خلاف اس وقت کارروائی شروع کی جب انہوں نے شہر کے مرکز میں لگائی گئی رکاوٹوں کو پھلانگنا شروع کردیا۔

ملائشیائی پولیس کے مطابق کم از کم بیس مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں کم و بیش پچیس ہزار افراد نے شرکت کی تھی جبکہ ملائشیا کا میڈیا مظاہروں میں شرکاء کی تعداد کو اسّی ہزار تک بتا رہا ہے۔

اس مظاہرے کو حزبِ اختلاف کے ایک اصلاحاتی گروپ کی حمایت حاصل تھی۔

دوسری طرف ملائشیاء کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے ان دعووں کی نفی کی ہے کہ الیکشن کمیشن متعصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دھوکہ دہی کے ذریعے دوبارہ منتخب ہونا نہیں چاہتی۔

جبکہ حزب اختلاف کے رہنماء انور ابراہیم کا کہنا ہے کہ ملائشیاء کے مقابلے میں تو برما کے انتخابات کا طریقۂ کار کہیں زیادہ بہتر ہے۔

ملائشیاء کے پارلیمان نے رواں ماہ انتخابی عمل میں کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے انتخابی فراڈ کا اہم معاملہ حل نہیں کیا گیا ہے جو موجودہ حکمراں مخلوط حکومت کو آزادی کے بعد سے اقتدار میں رکھے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں