’ایک ہزار مبصرین بھی تشدد نہیں رکوا سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضروری ہے کہ تمام فریق تشدد کے خاتمہ کے لیے کوشش کریں: رابرٹ موڈ

شام کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کی ٹیم کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ وہاں ایک ہزار غیر مسلح مبصرین بھی اپنے طور پر تشدد کو نہیں رکوا سکتے۔

شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے کے بعد مبصرین کی ٹیم کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے تمام فریق سے فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔

ان کی آمد کے بعد توقع ہے کہ جلد ہی مزید تیس مبصرین شام بھیجے جائیں گے جس کے بعد وہاں اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی تعداد دگنی ہوجائے گی۔

شام میں فائربندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے تیس غیرمسلح فوجی مبصرین پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں مجموعی طور پر تین سو مبصرین کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔

فائربندی نافذ ہوئے تین ہفتے گزرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات جاری ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک بھر میں فائرنگ کے واقعات میں مزید پچیس افراد ہلاک ہوگئے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

شام میں بارہ اپریل سے فائر بندی کا نفاذ کیا گیا تھا تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک پانچ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

شامی حکومت اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے پر تشدد کے الزامات عائد کررہے ہیں۔

میجر جنرل رابرٹ موڈ نے کہا ’دس، تیس، تین سو یہاں تک کہ ایک ہزار غیر مسلح مبصرین بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتے۔ کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تشدد کے خاتمہ کے لیے کوشش کریں اور اس سلسلے میں ہماری مدد کریں۔‘

لبنان میں حکام اُس بحری جہاز کے عملے سے تفتیش کررہے ہیں جس کو انہوں نے حراست میں لیا ہے۔ اس بحری جہاز پر ہتھیار برآمد ہونے کے بعد اسے حراست میں لیا گیا جو خیال ہے کہ شام میں باغیوں کے لیے بھیجے جارہے تھے۔

رابرٹ موڈ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ کا عزم اور شامی عوام کی خواشات اور حقوق، یہ وہ عوامل ہیں جن کی تکمیل کے لیے مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہوگا۔

جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ شام کی حکومت امن منصوبے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ شام کی حکومت بین الاقوامی برادری کے حمایت یافتہ ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے پر بلا تاخیر عمل کرے۔

اسی بارے میں