شام کے شہر ادلیب میں دھماکے، متعدد ہلاک

شام میں دھماکے کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہلاکتوں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سرکاری ٹی وی رپورٹس کے مختلف اعدادوشمار ہیں۔

شام میں سرکاری ٹی وی اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مغربی شہر ادلیب میں کئی دھماکے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہلاک ہونے والے بیشتر فوجی ہیں۔

ہلاکتوں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سرکاری ٹی وی رپورٹس کے اعداد و شمار مختلف ہیں۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’دو بم حملے ہوئے ہیں‘ جن میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار اور شہری دونوں شامل ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظيم سیرئین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے ان حملوں میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ادلیب میں بم دھماکے ائیرفورس کے ہیڈکوارٹر اور ملٹری انٹلیجنس کی عمارت کے قریب ہوئے ہیں اور ان دھماکوں میں بیشتر سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

سیرئین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے قریب بڑا دھماکہ ہوا ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حالانکہ اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ دمشق میں واقع سنٹرل بینک پر تین افراد نے گرینیڈ سے حملہ کیا۔ اس خبر کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ اسی درمیان اقوام متحدہ نے شام میں امن منصوبے کی نگرانی کے لیے ملک بھر میں تیس مبصرین بھیجے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ جلد ہی مزید تیس مبصرین کو تعینات کیا جائے گا۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ادلیب شہر حکومت مخالف احتجاج کے لیے جانا جاتا رہا ہے لیکن جب سے اقوام متحدہ کے مبصرین آئے ہیں، یہاں حالات پہلے کی نسبت پرامن رہے ہیں۔

شام میں اقوام متحدہ کے امن منصوبے کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ شام پہنچ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں گزشتہ ایک برس سے حکومت مخالف کشیدگی میں سینکڑوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تشدد کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں