ترکی: پہلے سویلین آئین کی تیاری

ترکی وزیراعظم اردوگان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی میں طویل فوجی اقتدار کے بعد سویلین اقتدار ایک عشرے پہلے ہی بحال ہوا ہے۔

ترکی میں پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی ملک کے پہلے مکمل طور پر سویلین آئین کی تیاری شروع کرنے والی ہے۔

نئے آئین کی تیاری کا مقصد ایک سادہ اور زیادہ جمہوری آئین بنانا ہے جسے موجودہ آئین کی جگہ نافذ کیا جاسکے۔

موجودہ آئین تقریباً تیس برس پہلے فوجی اقتدار کے دوران نافذ کیا گیا تھا اور اس میں فوج کو وسیع اختیارات دیے گئے تھے جبکہ شخصی آزادیوں پر بہت سی قدغنیں بھی عائد کی گئی تھیں۔

موجودہ آئین میں کردوں سمیت ملک کی اقلیتوں کو بھی عموماً نظرانداز کردیا گیا تھا۔ نئے آئین کا مسودہ موجودہ سال کے اختتام تک تیار ہونے کی توقع ہے۔

نئے آئین کے مسودے پر اب تک کثیرالجماعتی کمیٹی نے خاصے اتفاق رائے سے کام کیا ہے جو ایک انہونی بات ہے اور جس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ ترکی میں ایک ایسا آئین تیار ہوسکے گا جو عوام کی امنگوں کی عکاسی بھی کرے گا اور ملک میں ایک نمائندہ جمہوریت کی بنیاد بھی بن سکے گا۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس مقصد کے لیے ملک بھر میں اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شہری آزادیوں کے علمبردار گروپوں سے ان کے خیالات جاننے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم اصل متنازعہ موضوعات پر پارلیمانی کمیٹی اب کام شروع کرے گی یعنی صدر کے پاس کتنے اختیارات ہوں اور کردوں کو کتنی ثقافتی آزادی دی جائے۔

وزیراعظم رجب طیب اردوگان ترک سیاست پر پچھلے ایک عشرے سے چھائے ہوئے ہیں اور انہوں نے کسی سے یہ بات پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہیں کی کہ جب وزارت عظمٰی پر وہ اپنی مدت پوری کرلیں گے تو صدارت کے منصب پر فائز ہونا چاہیں گے۔

وہ یہ انتباہ بھی کرچکے ہیں کہ اگر نئے آئین پر پارلیمان میں اتفاق رائے نہ ہوا تو وہ اس معاملے پر ریفرینڈم کرانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں