صدر اوباما کاگوانشین پر تبصرہ کرنے سےگریز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شین گوانشین چین کے صوبہ شینڈاگ میں اپنےگھر میں سنہ دو ہزار دس میں جیل سے رہا ہونے کے بعد سے نظر بند تھے

امریکی صدر اوباما نے چین میں انسانی حقوق کے کارکن شین گوانشین کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پچھلے ہفتے اپنے گھر سے فرار ہونے کے بعد امریکی سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے ایک نیوز کانفرس کے دوران کہا کہ وہ اس معاملے پر میڈیا کی اطلاعات سے باخبر ہیں لیکن اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

نیوز کانفرس میں جب امریکی صدر اوباما سے چینی کارکن کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس بات پر زور دیں گے’ جب بھی ہماری چینی حکام سے ملاقات ہوتی ہے تو حقوق انسانی کے مسئلے پر بات ہوتی ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ رواں ہفتے کے اختتام پر چین جا رہی ہیں اور انہوں نے بھی حکومت مخالف وکیل شین گوانشین کے معاملے پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شین گوانشین کے معاملے کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ چین پر منفی اثرات پڑیں گے۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شین گوانشین نے گزشتہ ماہ اپنے گھر سے فرار ہونے کے بعد بیجنگ میں امریکی سفارت خانے میں پناہ لے لی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور چین گوانشین کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نیولینڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار چین گئے تھے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا کہ اہلکار گوانشین کے معاملے پر بات چیت کرنے گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ’ وہ چین میں بات چیت کے دوران حقوق انسانی کا مسئلہ اٹھائیں گی۔‘

چین میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف وکیل شین گوانشین اس وقت بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

شین گوانشین چین کے صوبہ شینڈاگ میں اپنےگھر میں نظر بند تھے اور حیرت انگیز طریقے سے وہاں سے فرار ہوگئے۔

سنہ دو ہزار دس میں جیل سے رہا ہونے کے بعد سے وہ اپنےگھر میں نظر بند تھے۔

انسانی حقوق کے کارکن ہو جیا نے بتایا کہ نابینا شین گوانشین نے گھر کے گرد اونچی دیوار پھیلانگی اور پھر انہیں گاڑی میں سینکڑوں میل دور بیجنگ لے جایا گیا۔

واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی تبھی سے مقامی کارکنان اور مغربی ممالک کی نظر ان پر ہے۔

شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور شینڈاگ صوبے کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی۔

اسی بارے میں