شام میں تشدد جاری، تیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک میں فائر بندی کے باوجود منگل کو پر تشدد کارروائی میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہو گئے۔

کارکنوں کے مطابق شام کے صوبہ ادلیب کے ایک گاؤں میں مارٹر حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کی چار خواتین اور دو بچوں سمیت نو افراد شامل تھے۔

شام میں تشدد کی تازہ لہر میں بارہ فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

دریں اثناء شام میں اقوامِ متحدہ کی مبصرین کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں بیس روز پہلے ہونے والی فائر بندی کے باوجود حکومت اور حزبِ مخالف نے فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

ہرف لیڈ سوس نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دونوں جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔

ان کے بقول شام میں اب بھی بھاری ہتھیاروں کی تنصیب کا کام جاری ہے۔

ہرف لیڈ سوس نے بتایا کہ مصبرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے شام کے شہر حما میں بمباری کی جا رہی ہے تاہم اس بارے میں ان کے پاس مزید تفصیل نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شام میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ مئی کے آخر تک ادارے کے مزید تین سو مبصرین شام پہنچ جائیں گے۔

اقوام متحدہ نے شام میں امن منصوبے کی نگرانی کے لیے مبصرین کی محدود ٹیم بھیج رکھی ہے اور گزشتہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں مزید تین سو مبصرین کی تعیناتی کی اجازت دی تھی۔

وسری جانب شام میں شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے شام کے شہروں سے فوجی اور بھاری ہتھیاروں کے انخلاء کے مطالبے کے باوجود تشدد کے واقعات جاری ہیں۔

شام کے مختلف شہروں میں پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تشدد کے واقعات ان علاقوں میں بھی رونما ہوئے ہیں جہاں پر بین الاقوامی مبصرین جنگ بندی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں