اقوام متحدہ نے کورین کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیانگ یانگ نے نئی پابندیوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا

اقوامِ متحدہ نے پیانگ یانگ کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے جانے والے راکٹ کے ناکام تجربے کے جواب میں شمالی کوریا کی تین کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی عائد کرنے والی کمیٹی نے بدھ کو ان تین کمپنیوں کے اثاثے منجمند کرنے اور ان کے ساتھ بین الاقوامی تجارت پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی منظوری دی۔

امریکہ اور مغربی ممالک شمالی کوریا کی چالیس کمپنیوں کو بلیٹ لسٹ کرنا چاہتے تھے تاہم چین نے اس قرار داد کو روک دیا۔

پابندی عائد کرنے والی کمیٹی نے جن تین کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا ہے ان میں گرین پائین کانگلومیریٹ، ایمروگینگ ڈویلپمنٹ بینکنگ کارپوریشن اور کوریا ٹریڈنگ کمپنی کے نام شامل ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ تینوں کمپنیاں ہتھیاروں کو حاصل کرنے اور ان کی برآمد کے لیے سرمایہ فراہم کرنے میں ملوث تھیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفارت کار سوسن رائس نے ایک بیان میں اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کا یہ سنجیدہ ردِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے شمالی کوریا کو مزید تہنا کیا جائے گا اور پیانگ یانگ کے لیے غیر قانونی پروگراموں کو آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک، جاپان اور جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی چالیس کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی قرار داد پیش کی تھی تاہم اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ چین کی مخالفت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب پیانگ یانگ نے نئی پابندیوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔

شمالی کوریا نے عالمی برادری کی تنقید اور مخالفت کے باوجود تیرہ اپریل کو طویل فاصلے تک جانے والے سیٹلائٹ راکٹ کا تجربہ کیا تھا تاہم وہ تجربہ ناکام رہا تھا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس راکٹ سے ایک مصنوعی سیارے کو خلاء میں بھیجا جانا تھا لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک دورمار میزائل کی ٹیکنالوجی کا تجربہ تھا۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت شمالی کوریا پر ایسے تجربات پر پابندی عائد ہے۔

.

اسی بارے میں