سوڈان پر پابندیوں کی قرار داد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان اور جنوبی سوڈان کو حالیہ تشدد ختم نہ کرنے کی صورت میں ان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سلامتی کونسل کی متفقہ قرار داد میں خرطوم اور جوبا سے کہا گیا ہے کہ وہ متنازع امور پر دو ہفتے کے دوران مزاکرات شروع کریں۔

امریکی کی جانب سے تجویز کی گئی قرار داد میں افریقی یونین کے مجوزہ روڈ میپ کی حمایت کی گئی ہے جس کے مطابق دونوں ممالک کو تنازع حل کرنے کے لیے مزاکرات کرنے کو کہا گیا ہے۔

قراد داد میں دونوں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر افواج کے انخلاء اور فوری طور پر تمام جنگی کارروائیاں بند کریں۔

قرار داد میں دونوں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر لڑائی روکنے کے لیے تحریری وعدہ کریں۔

قرار داد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے دونوں ممالک متنازع امور پر دو ہفتے کے اندر مزاکرات کریں تاکہ تین ماہ کے اندر امن معاہدہ کیا جا سکے۔

قرار دار کے مطابق اگر دونوں ممالک میں سے کسی نے بھی اس کی خلاف ورزی کی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل اکتالیس کے تحت ان پر غیر فوجی پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

سفارت کاروں کا کہنا کہ سلامتی کونسل کی موجودہ قراردار کو چین اور روس کی حمایت حاصل ہے۔اس سے پہلے دونوں ممالک نے پابندیوں کی مخالفت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں چین کے سفارت کار لی بوڈونگ کا کہنا ہے کہ چین نےدونوں ممالک پر پابندی کی قرار داد کے حوالے سے ہمیشہ احتیاط برتی ہے تاہم اب وہاں صورتِ حال بہت خراب ہو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفارت کار ویٹالی چرکن کا کہنا ہے کہ ماسکو کو اس حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تاہم وہ اس قرار داد کی افریقی یونین کی وجہ سے حمایت کرے گا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفارت کار سوسن رائس نے افریقی یونین کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا مستقبل میں تصادم کو روکنے کا یہ واحد راستہ ہے۔

سوڈان اور جنوبی سوڈان میں جاری حالیہ لڑائی کے بعد وہاں مکمل جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

جنوبی سوڈان نےگزشتہ برس سوڈان سے آزادی حاصل کی تھی تاہم دونوں ممالک کے کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

اسی بارے میں