شین،’بیرون ملک تعلیم کے لیے جا سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف وکیل شین گوانشین بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

چینی حکومت نے یہ بیان دے کر بظاہر شین کے معاملے پر امریکہ سے جاری سفارتی بحران کے حل کا راستہ نکالا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق’ شین گوانشین مقامی قانون کے تحت معمول کے طریقہ کار کے مطابق یہ درخواست دے سکتے ہیں۔‘

حکومت مخالف وکیل شین گوانشین جنہیں صوبہ شینڈاگ میں واقع ان کےگھر پر نظربند کیا گیا تھا، وہاں سے گزشتہ ماہ فرار ہونے کے بعد بیجنگ میں واقع امریکی سفارت خانے میں چھ دن کے لیے پناہ لے لی تھی۔

اب شین گوانشین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اہلخانہ سمیت امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق’ اگر وہ ایک چینی شہری کی طرح بیرون ملک تعلیم کے لیے جانا چاہتے ہیں تو دوسرے چینی شہریوں کی طرح قانون کے مطابق ایک معمول کے طریقہ کار کے تحت متعلقہ اداروں کو درخواست دینا ہو گی۔‘

شین گوانشین اس وقت بیجنگ کے ایک ہسپتال میں زیراعلاج ہیں اور پولیس نے اس ہسپتال کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ شین گوانشین کے لیے تحائف لے کر ہسپتال جا رہے ہیں جہاں وہ شین گوانشین کے کمرے میں جانے کی کوشش کریں گے۔

اس سے پہلے شین گوانشین نے امریکی کانگریس کے ایک پینل سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو اپنے خاندان کی سلامتی کے متعلق خدشات ہیں اور وہ سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن سے براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ شین گوان شین نے جب سے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کے خلاف مہم شروع کی تھی تبھی سے مقامی کارکنان اور مفربی ممالک کی نظر ان پر ہے۔

شین گوان شین بچپن میں ہی نابینا ہوگئے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر وکالت کی تعلیم حاصل نہیں کی ہے کیونکہ چین میں نابیناؤں کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

شین گوان شین حکومت کی ایک بچے والی پالیسی کے سبب ہونے والے استحصال سے متعلق حقائق پیش کرتے رہے ہیں اور شینڈاگ صوبے کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہاں کم از کم سات ہزار خواتین کے جبراً اسقاط حمل اور نس بندی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں