سارہ فرگوسن پر ترکی میں مقدمہ

سارہ فرگوسن
Image caption سارہ فرگوسن کہہ چکی ہیں وہ اب ترکی نہیں جائیں گی۔

ترکی میں ایک عدالت ڈچز آف یارک سارہ فرگوسن کے خلاف ایک مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ یہ مقدمہ ان پر چار سال قبل بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کے خلاف قائم کیاگیا ہے جس میں انہوں نے ترکی کے ایک یتیم خانے میں بچوں کے حالات کو فلم بند کیا تھا۔

مقدمے میں ان پر الزام عائد کیاگیا ہے کہ انہوں نے ترکی کے ان بچوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور ملکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس مقدمے میں سارہ فرگوسن کو بیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق سارہ فرگوسن کہہ چکی ہیں وہ اب ترکی نہیں جائیں گی اور حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ترکی کے حوالے کیے جانے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔

سرارہ فرگوسن کی خلاف یہ مقدمہ اُس خفیہ دستاویزی فلم کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے جو انہوں نے دو ہزار آٹھ میں بنائی تھی۔

انہوں نے خود کو ایک چندہ دینے والی شخصیت ظاہر کرکے ٹیلی وژن کے عملے کے ہمراہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایک یتیم خانے میں جا کر اس فلم کی عکس بندی کی تھی۔

بعدازاں اس دستاویزی فلم کو برطانیہ میں نشر کیا گیا جس میں بعض بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس دستاویزی فلم پر ترکی میں سیاستدانوں نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈچز آف یارک ترکی کی ساکھ کو داغدار کرنا چاہتی ہیں۔

سارہ فرگوسن نے بعد میں اس فلم سے ملنے والے کسی منفی تاثر پر معافی تو مانگ لی تھی تاہم وہ اس میں دکھائے جانے والے موضوع پر قائم رہیں۔

سارہ فرگوسن پر جنوری میں باقاعدہ طور پر الزام عائد کیا گیا تھا تاہم مقدمے کا آغاز اب کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ سارہ فرگوسن نے اپنے دفاع کا مقدمہ لڑنے کے لیے ترکی آنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب ان کا دفاع ترکی کی ایک قانونی ٹیم کرے گی۔ یہ مقدمہ کئی مہنیوں تک چلنے کا امکان ہے۔