جاپان: تمام جوہری ری ایکٹر عارضی طور پر بند

جاپان جوہری ریئکٹر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گزشتہ چودہ مہینوں میں جاپان نے ایک کے بعد ایک اپنے جوہری ریئکٹر بند کیے ہیں

جاپان میں فوکوشیما جوہری پلانٹ کی تباہی کے بعد جاپان نے اپنے تمام جوہری ری ایکٹروں کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے تمام ری ایکٹر بند کر دیئے ہیں۔ان ری ایکٹروں کے بند ہونے کے بعد ملک میں بجلی کے شدید بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چالیس سال میں پہلی بار جاپان کے پاس جوہری توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔

جاپان میں گزشتہ برس آنے والے زلزنے اور سونامی میں فوکوشیما پاور پلانٹ کے تباہ ہونے کے بعد جاپان کی تیس فیصد بجلی کی کمی کو جوہری ری ایکٹر سے ہی پورا کیا جا رہا تھا۔

زلزلے اور سونامی کے بعد سے پچاس سے بھی زیادہ ری ایکٹرز کو معمول کی دیکھ بھال اور جانچ کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔

زلزلے اور سونامی کے سبب فوکوشیما کے چھ ری ایکٹروں میں سے چار کولنگ کے نظام تباہ ہوجانے کی وجہ سے بند ہوگئے۔

حکومت ملک میں پھیلی ہوئی جوہری تنصیبات کے پاس زلزلوں کی قوت برداشت کی جانچ کر رہی ہے تاکہ اس کے گرد و نواح میں بسنے والے لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ یہ تنصیبات زلزلوں کو بھی برداشت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

لیکن فوکوشیما حادثے کے بعد سے مقامی آبادی ان جوہری تنصیبات کو دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ہیں جنہیں معمول کی دیکھ بھال کے لیے بند کیا گیا ہے۔

جاپان نے فضلاتی ایندھن کی درآمدات میں اضافہ کر دیا ہے اور بجلی کمپنیوں نے پرانے بجلی پلانٹوں کو پھر سے کام میں لانے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان سب کوششوں کے باوجود جاپان میں گرمیوں میں بجلی کی فراہمی میں کمی ہو سکتی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی خطرات کے پیش نظر معمول کی دیکھ بھال کے لیے بند کیے جانے والے جوہری ری ایکٹروں کو پھر سے شروع نہیں کیا جانا چاہیے۔

گزشتہ سال مارچ میں آنے والی سونامی کے سبب فوکو شیما جوہری پلانٹ میں جوہری مواد رسنا شروع ہو گیا تھا اور لوگوں کو تابکاری کے اثرات سے بچانے کے لیے لوگوں کو علاقے سے نکال لیا گیا تھا۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کا کہنا ہے ’جوہری توانائی کے بغیر جاپان زیادہ محفوظ ہے۔‘

جاپان میں تنظيم کے سربراہ جونیچی ساتو کا کہنا ہے ’جاپان کے لاکھوں لوگ آج بھی فوکوشیما حادثے کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

وہیں جاپان کے بڑے صنعت کاروں اور حکومت کا موقف ہے کہ جوہری پلانٹس کو ازسر نو شروع کرنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں