’بدسلوکی کے الزامات میں کوئی سچائی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی عدالت امریکی تحویل کے دوران ملزمان پر تشدد کرنے کے شواہد کو سینسر کر رہی ہے:وکلائے صفائی

امریکی محکمۂ دفاع نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ نائن الیون حملوں کی سازش کے الزام میں گوانتانامو کے حراستی مرکز میں قید ولید بن عطش سے بدسلوکی کی گئی ہے۔

ولید ان پانچ افراد میں سے ایک ہیں جن پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

ولید کے وکیلِ صفائی نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد پریس کانفرنس میں اپنے موکل سے بدسلوکی کی شکایت کی تھی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کے موکل کے بازوؤں پر حراست کے دوران ان سے روا رکھے گئے برے سلوک کے نشانات موجود ہیں۔

تاہم امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ نائن الیون حملوں کی سازش کے الزام میں گوانتانامو کے حراستی مرکز میں قید ولید بن عطش سے بدسلوکی کے ثبوت نہیں ملے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان الزامات کی مکمل تفتیش کی گئی تھی اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

ادھر امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار ملزمان کے وکلاء نے گوانتانامو بے میں قائم فوجی عدالت کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔

اس ٹربیونل میں سنیچر کو ان حملوں کے مبینہ کلیدی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد سمیت پانچ ملزمان پر قتل اور دیگر جرائم کی باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

خالد شیخ محمد سمیت پانچوں ملزمان نے سماعت کے دوران عدالت کے سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان الزامات کی مکمل تفتیش کی گئی تھی اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے:پینٹاگون

ان افراد نے وکلاء نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ فوجی عدالت امریکی تحویل کے دوران ملزمان پر تشدد کرنے کے شواہد کو سینسر کر رہی ہے۔

حملوں کی منصوبہ بندی کے مرکزی ملزم خالد شیخ پر دورانِ حراست پانی کے اندر ڈبو ڈبو کر تشدد کیا گیا جسے ’واٹر بورڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔

خالد شیخ محمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل احتجاجاً جج کے سوالات سننے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ان پر دوران حراست تشدد کیا گیا اور انہیں یقین ہے کہ مقدمے کی کارروائی منصفانہ نہیں ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ نیون کا کہنا تھا کہ ’ اس عدالت کو منصفانہ نہ رہنے دینے کے لیے سب کچھ کیا جا رہا ہے‘۔

اسی بارے میں