القاعدہ کا انڈر وئیر بمبار درحقیقت ڈبل ایجنٹ

عمر فاروق عبدالمطلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمر فاروق عبدالمطلب نے سنہ 2009 میں امریکہ آنے والا طیارہ تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی

امریکہ سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق یمن سے امریکہ جانے والے جہاز میں انڈروئیر میں چھپا بم لے جانے والا شخص درحقیقت ڈبل ایجنٹ تھا۔

امریکی حکام کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس شخص کو یمن میں موجود القاعدہ کی جانب سے امریکی جہاز کو تباہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا تاہم اس نے یہ آلہ سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔

اسی دوران پینٹا گون امریکی فوج کے بعض ماہرین کو یمن بھیج رہا ہے کہ تاکہ وہ وہاں القاعدہ کے عسکریت پسندوں اور حامیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر مقامی سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کر سکیں۔

اس قے قبل امریکی میڈیا نے خبر دح تھی کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے یمن میں القاعدہ کے بنائے ہوئے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے جس کے تحت امریکہ آنے والے ایک جہاز کو ’انڈر ویئر‘ بم کے ذریعہ اڑایا جانا تھا۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس ڈبل ایجنٹ کو سعودی عرب کے خفیہ ادارے نے یہ ذمہ دیا تھا کہ وہ کسی طرح القاعدہ کو اس بات پر قائل کردے کہ وہ امریکی جہاز کو تباہ کرنے کے لیے خود کش حملہ کرنے کا خواہش مند ہے۔

یہ ’بم‘ اس وقت امریکی اہلکاروں کے قبضے میں ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی اس کا جائزہ لے رہی۔

اطلاعات کے مطابق جب یہ منصوبہ پکڑا گیا اس وقت تک کوئی ٹارگٹ طے نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی جہاز کا ٹکٹ خریدا گیا تھا۔

مبینہ خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے والے شخص کی بھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کس نے یہ ’بم‘ بنایا تاہم حکام کے مطابق اس کے کچھ وصف سنہ 2009 میں کرسمس کے دن ڈیٹریاٹ جانے والے جہاز کو ’انڈر ویئر‘ بم کے ذریعے تباہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے عمر فاروق عبدالمطلب کے منصوبے سے ضرور ملتے ہیں۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی انٹیلیجنس اہلکار نے کہا کہ اس آلے کی خصوصیات 2009 کے انڈر ویئر بم سے ملتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کائٹلن ہیڈن نے بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما کو اس منصوبے کے متعلق اپریل میں ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آلے سے اب کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں القاعدہ کے ایک سینیئر رہنما فہد القسو کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں