بیجنگ میں الجزیرہ کا دفتر بند

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین سے رپورٹنگ کے لیے درخواست کرتے رہیں گے

عرب ٹی وی چینل الجزیرہ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اس کی نامہ نگار کے ویزے کی تجدید سے انکار کے بعد اسے بیجنگ میں اپنا دفتر بند کرنا پڑا ہے۔

بیجنگ میں تعینات الجزیرہ انگلش کی نمائندہ ملیسا چان نے اپنے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید کی درخواست دی تھی جو رد کر دی گئی۔

ملیسا چین میں سنہ دو ہزار سات سے صحافتی فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔

یہ ماضی قریب میں پہلا موقع ہے کہ چین کی جانب سے کسی غیر ملکی صحافی کے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

چینی حکام نے ملیسا چان کی جگہ کسی اور نامہ نگار کی تعیناتی کی درخواست بھی رد کر دی ہے تاہم الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وہ چین سے رپورٹنگ کے لیے درخواست کرتا رہے گا۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے اس اقدام کو ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔

چین نے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب وہ ایک دہائی کے دوران ایک مرتبہ ہی ہونے والی قیادت کی تبدیلی کے عمل کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ وقت ملک کی داخلی سیاست میں ایک حساس دور مانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں