لیبیائی باغیوں کا وزیرِ اعظم کے دفتر پر حملہ

libya تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں عبوری وزیر اعظم کے دفتر پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے جس میں کم سے کم ایک محافظ ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دو سو سے زائد مسلح افراد نے مارٹر گولوں کے ہمراہ وزیرِ اعظم کے دفتر پر ہلہ بول دیا۔ تاہم سکیورٹی اہلکار عمارت کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ مسلح افراد سابق باغی بتائے جاتے ہیں جنہوں نے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کی لڑائی میں حصہ لیا۔ یہ افراد انعام کے طور پر اعلان کردہ رقم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وزیر اعظم عبدالرحیم حملے کے وقت عمارت کے اندر ہی موجود تھے تاہم ان کے ایک مشیر نے کہا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔

وزیرِ اعظم کے دفتر پر حملہ کرنے والے یہ باغی گذشتہ برس اعلان کردہ انعام کی رقم کو روکے جانے پر ناراض ہیں۔

ایک سرکاری ملازم نے خبر رساں ایجنسی اے پی پی کو بتایا، ’بہت سے لوگوں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور فائرنگ کرنے لگے۔ کچھ لوگ عمارت کے اندر بھی داخل ہو گئے اور انہوں نے وہاں بھی فائرنگ کی ہے.۔‘

عمارت میں موجود زیادہ تر لوگ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن میں وزیر خزانہ اور نائب وزیر اعظم بھی شامل ہیں۔

طرابلس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے نہ صرف نقد رقوم بلکہ بغاوت کے دوران زخمی ہونے والے باغیوں کا بیرونِ ملک علاج کروانے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے انعامی سکیم گذشتہ ماہ بند کی گئی تھی کیونکہ اس میں دھوکہ دہی کے الزامات سامنے آ رہے تھے۔

لیبیا کی حکومت کرنل قذافی کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ہزاروں باغیوں کو ملک میں عدم استحکام کے خطرے کے پیشِ نظر غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں