’نائیجر ماں بننے کے لیے بدترین ملک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Oxfam
Image caption غذائیت کی کمی نائیجر کے عوام کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر اثرانداز ہو رہی ہے

خیراتی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ خوراک کے بحران سے نبردآزما نائیجر دنیا میں ماں بننے کے لیے بدترین ملک بن گیا ہے۔

تنظیم نے اس بات کا اعلان دنیا بھر میں ماؤں کی حالت پر اپنے عالمی تقابلی جائزے کے بعد کیا ہے۔

گزشتہ دو برس سے افغانستان اس فہرست میں سب سے نیچے تھا تاہم اس سال مغربی افریقہ کا ملک نائیجر کی رینکنگ سب سے کم رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کے مطابق سیو دی چلڈرن کی سالانہ رپورٹ میں غذا کی کمی کے ماؤں اور ان کے بچوں پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ غذائیت کی کمی نائیجر کے عوام کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

اس کے مطابق نائیجر میں اپنے بچپن میں غذا کی کمی کا شکار خواتین ایسے لاغر، نحیف اور کمزور بچوں کو جنم دے رہی ہیں جن کے بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق غذائی ایمرجنسی ان حالات میں خرابی کی بڑی وجہ بن رہی ہے اور نائیجر میں جاری خوراک کے بحران کی اہم وجہ ساحل نامی خطے میں پڑنے والا قحط ہے۔

تنظیم کے مطابق اس وقت دنیا میں ماں بننے کے لیے سب سے بہترین ملک ناروے ہے جبکہ برطانیہ اس فہرست میں دسویں نمبر پر ہے۔