شام میں خانہ جنگی روکنے کا آخری موقع

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا امن منصوبہ شام میں خانہ جنگی روکنے کا آخری موقع ہے۔

شام کے بحران کو حل کرنے پر مامور مشترکہ ایلچی کوفی نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شام میں خاص طور پر تشدد، وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور حقوق انسانی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔

سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کوفی عنان کے مطابق انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ شامی صدر بشار الاسد کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کو ختم کریں۔

’خاصی تشویش پائی جاتی ہے کہ شام خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے، اس کے نتائج بہت خوفناک ہونگے اور ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔‘

کوفی عنان کے مطابق’ وہ جانتے ہیں کہ بہت سے سوالات اٹھ رہے کہ اگر منصوبہ ناکام ہو گیا تو کیا ہو گا۔ انہیں بھی تجاویز کا انتظار ہے کہ ہم کیا کریں گے اور اگر کوئی بہتر تجاویز ہوتیں تو سب سے پہلے انہیں ہی پتہ چلتیں۔ آگے چل کر شاید ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ یہ سب نہیں چل پایا اور ہمیں نیا راستہ پکڑنا ہے۔ وہ بہت افسوسناک اور خطے کے لیے مشکل دن ثابت ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں رواں ماہ تین سو مبصرین کی تعیناتی مکمل ہو جائے گی: کوفی عنان

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ شام میں تین سو مبصرین کی تعیناتی مکمل ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ کوفی عنان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب بین الاقوامی امدادی ادارے آئی سی آر سی نے شام میں امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے دو کروڑ ستائیس لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

شام میں امدادی کارروائیوں میں مصروف واحد بین الاقوامی تینطیم آئی سی آر سی کے مطابق اب بھی لاکھوں افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ترکی نے شام میں تین ہزار سے زائد بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں