’یمن کی القاعدہ امریکہ کے لیے بڑا خطرہ‘

رابرٹ ملر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایف بی آئي کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر نے کہا ہے کہ امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ یمن کی القاعدہ کے شدت پسندوں سے ہے۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایجنسی ایف بی آئي کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر نے کہا ہے کہ امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ یمن کے القاعدہ گروپ کے شدت پسندوں سے ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائیریکٹر نے امریکی اراکین پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ حال ہی ناکام بنائی گئی طیارے اڑانے کی ایک سازش سے کئی باتیں واضح ہوئی ہیں۔

ایف بی آئی کے ایک جاسوس نے القاعدہ کے امریکی مسافر جہاز کو اڑانے کے سازش کرنے والے شدت پسندوں میں شامل ہوکر ان کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طیارے کو دھماکے سے اڑانے کی حالیہ ناکام کوشش بتاتی ہے کہ امریکہ کو اپنی نگرانی کی صلاحیت بڑھانے کی بہت ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کار اس نئے انڈروئیر بم کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

ملر نے کہا کہ اس ناکام سازش کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ امریکی حکومت، امریکہ کے باہر موجود ان غیر ملکیوں پر بھی الیكٹرونك طریقے سے نظر رکھے جو امریکہ کے لئے خطرہ ہو سکتے ہیں۔

امریکی پارلیمان نے سال 2008 میں اس سلسلے میں ایک قانون بنایا تھا جس کی مدت اس سال کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ ملر نے پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اس قانون کی مدت کو اور بڑھا دیں۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر نے ناکام کی گئی سازش میں استعمال میں ہونے والے بم کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بموں کا استعمال القاعدہ کرتا رہا ہے۔

ملر نے کہا ’یہ انڈروئیر بم سال 2009 میں اسی طرح کی ایک سازش میں استعمال کئے گئے بم کی جدید شکل ہے۔‘

اسی بارے میں