امریکی فوجی کالج: ’اسلام مخالف کورس کی مذمت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے ایک اعلیٰ ترین فوجی افسر نے امریکی فوجی کالج میں پڑھائے جانے والے اس کورس کا مذمت کی ہے جو ’اسلام کے خلاف جنگ‘ کی وکالت کرتا تھا۔

امریکہ میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسے کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کالج میں پڑھایا جانے والا یہ کورس ’مکمل طور پر قابلِ اعتراض ‘ تھا اور ’ہماری اقدار کے خلاف‘ تھا۔

ورجنیا کی ریاست میں واقع جوائنٹ فورسز سٹاف کالج میں اس اختیاری کورس سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ ’مسلمانوں کے مقدس مقامات جیسے مکہ میں جوہری حملے بھی ہو سکتے تھے۔‘

اب اس کورس کی تدریس معطل کر دی گئی ہے۔

جنرل ڈیمپسے کا کہنا تھا ’یہ کورس مکمل طور پر قابلِ اعتراض ہے، ہماری اقدار کے خلاف ہے اور تدریس کے اعتبار سے بھی درست نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپریل میں ایک طالب علم کی جانب سے اس معاملے کی نشاندھی کے بعد اس کورس کی تدریس معطل کر دی گئی تھی اور خود انھوں نے مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

اس جماعت کے انچارج افسر لیفٹیننٹ کرنل میتھو ڈولے کو تدریس کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ تاہم وہ نورفک شہر میں واقع کالج میں کام کرتے رہیں گے۔

پینٹاگون نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر واقع مواد جو اس کورس سے متعلق ہے، درست ہے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اس کورس کی رسمی پیشکش کی ایک نقل آن لائن کر دی گئی۔

آن لائن ہونے والی نقل کے مطابق گزشتہ جولائی میں لیفٹیننٹ کرنل ڈولے کہتے ہیں کہ ’اب ہمیں سمجھ آ گئی ہے کہ معتدل اسلام نامی کوئی (تصور) ہے ہیں نہیں۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ امریکہ ہمارے ارادوں کو واضح کرے۔ اس وحشیانہ تصور کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسلام اپنے آپ کو بدلے ورنہ ہمیں اس کی تباہی میں آسانی پیدا کرنی ہوگی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جینیوا کنوینشن جیسے بین الاقوامی قانون کے مطابق مسلح کشمکش میں عام لوگوں کے تحفظ کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔

جب سے یہ خبر آئی ہے لیفٹیننٹ ڈولے نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

شمالی امریکہ کے لیے بی بی سی کے ایڈیٹر مارک مارڈیل پینٹاگون کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کو امید ہے کہ اس واقعہ کی مکمل رپورٹ اس ماہ کے آخر تک سامنے آ جائے گی۔

اسی بارے میں