فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال ختم کرنےپررضامند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اردن اور مصر کے تعاون سے طے پائے جانے والے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تصدیق اسرائیلی جیل خانوں کی ایک اتھارٹی نے بھی کر دی ہے۔

اسرائیل کے جیل خانوں میں فلسطینی قیدی دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی اجتماعی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

پندرہ سو سے زائد فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی جیل خانوں کے حالات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے جیلوں میں کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔

بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کا اہم مطالبہ یہ تھا کہ مقدمے اور فردِ جرم کے بغیر دی جانے والی قید کی سزاوں کو ختم کیا جائے۔

تاہم اسرائیلی حکام نے مشروط طور پر ایک معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب قیدیوں کے خلاف چھ ماہ تک نئے ثبوت سامنے نہ آنے کی صورت میں انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کے اس فیصلے کی وجہ کسی فلسطینی قیدی کی ممکنہ ہلاکت کے نتیجے میں پرتشدد فلسطینی کارروائیوں کا خدشہ ہے۔

اس معاہدے کے تحت رواں سال نومبر تک تین سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کا اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے کا امکان ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی تنطیم کے سربراہ قدورا فارس نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’تمام فریقین نے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘

اردن اور مصر کے تعاون سے طے پائے جانے والے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی تصدیق اسرائیلی جیل خانوں کی ایک اتھارٹی نے بھی کر دی ہے۔

اسی بارے میں