’جنگی جرائم‘ پر ملادچ کے خلاف مقدمہ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ستر سالہ راتکو ملادچ پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں اہم کردار ادا کیا

بوسنیائی سرب فوجی کمانڈر راتکو ملادچ کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے گیارہ الزامات کے تحت مقدمہ بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔

وہ نوے کی دہائی کی بلقان جنگ کے آخری بڑے مجرم ہیں جنہیں نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں جنگی جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کی عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے۔

ان پر سنہ انیس سو پچانوے میں سربنتزا کے علاقہ میں سات ہزار مسلمان لڑکوں اور مردوں کے قتلِ عام میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

ستّر سالہ راتکو ملادچ پندرہ برس تک مفرور رہنے کے بعد گزشتہ برس مئی میں سرب فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے جس کے بعد انہیں دا ہیگ بھیج دیا گیا تھا۔

وہ اسی جیل میں مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں جہاں ان کے سابق سیاسی رہنما رادوواں کاردچ کو رکھا گیا ہے۔ کاردچ کو 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھی مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

عدالتی حکام ملادچ کے وکلاء کی جانب سے مقدمے میں تاخیر کی درخواستیں رد کرتے رہے ہیں۔حال ہی میں ملادچ نے مقدمے کی سماعت کرنے والے ولندیزی جج الفانس اوری کو تبدیل کرنے کی بھی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

ملادچ کے خلاف الزامات کی تعداد تقریباً نصف اس لیے کر دی گئی ہے تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی تیزی سے چل سکے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے چار سو سے زائد گواہان کے بیانات لیے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بوسنیائی مسلمانوں اور کروٹس کے خلاف نسل کشی کی مہم چلائی اور انیس سو بانوے سے شروع ہونے والی اس مہم کا نقطۃ عروج سنہ پچانوے میں مشرقی بوسنیا میں سربنتزا کا واقعہ تھا جہاں ہزاروں مسلمان مردوں کو ہلاک کر کے اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا تھا۔.

ملادچ پر بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا چوالیس ماہ تک جاری رہنے والا محاصرہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران سراجیوو میں دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ڈھائے جانے والے سب سے خوفناک مظالم تھے۔

اسی بارے میں