غرب اردن میں نئی کابینہ کی تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حماس کے ایک ترجمان نے فلسطینی صدر کی جانب سے نئی کابینہ کےاعلان کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے غرب اردن میں نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے اراکین سے حلف لے لیے ہیں۔

نئی کابینہ میں مغربی ممالک کے منظورِ نظر وزیراعظم سلام فیاض اپنا وزیراعظم کا عہدہ برقرار رکھیں گے لیکن انہیں وزیرِ خزانہ کا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں سے فلسطین دو مخالف تنظیموں فتح اور حماس کے درمیان بٹا ہوا ہے۔اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے دونوں حریفوں کے درمیان اتحادی حکومت بنانے کے معاہدے پر اتفاق بھی ہوا تھا۔

حماس کے ایک ترجمان نے فلسطینی صدر کی جانب سے نئی کابینہ کےاعلان کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے۔

رمالا میں بی بی سی کے نامہ نگار جون ڈونیسن کا کہنا ہے کہ مصر کے شہر قاہرہ میں فتح اور حماس کے درمیان معاہدہ ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن دونوں گرہوں کے درمیان تلخ لڑائیوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے اب تک کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان اب تک اس بات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا کہ عبوری حکومت کے قیام کے لیے کن ممبران کو چنا جائے۔ منصوبے کے تحت عبوری حکومت کے قیام کی کے بعد اس نے رواں ماہ کے آخر تک الیکشن کے لیے قانون سازی کرنی تھی۔

غربِ اردن میں نئ کابینہ کے پچیس اراکین میں خزانہ، قومی معیشت، یروشلم کے امور، انصاف اور صحت کی وزراتیں، گیارہ نئے ممبران کو سونپی گئی ہیں۔

غرب اردن میں ورارت خارجہ کا منصب بانیل کاسس کو سونپا گیا ہے ۔جن کے لیے اہم کام ایک ارب تیس کروڈ ڈالر کے اپنے بجٹ میں پچاس کروڑ ڈالر کی کمی کو پورا کرنا ہے ۔اس رقم کا زیادہ تر حصہ امداد کے طور پر یورپی یونین، امریکہ اور عرب ملکوں کی جانب سے فلسطین کو دیا جاتا ہے۔

فتح کے رہنماء اور صدر محمود عباس نے حلف برداری کی تقریب کے بعد کہا کہ وہ مفاہمت کی اپنی پالسی پر اب بھی عمل پیرا ہیں۔

صحافیوں کے ساتھ گفتگوں میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آج یا کل حماس کے ساتھ معاہدے پر اتفاق راِے پیدا ہو جاتا ہے تو اس نئی حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا۔لیکن وہ ہمیشہ کا انتظار نہیں کر سکتے ۔‘

دوسری جانب حماس نے فلسطینی صدر کی جانب سے اس یک طرفہ کارروائی پر تنقید کی ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’موجودہ حکومت کو فلسطینی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی اسے فلسطینی قانون ساز کونسل کی حمایت ملی ہے جس کی وجہ سے اس پالیسی سے فلسطینی عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں