’افغانستان میں آنے والا وقت زیادہ کٹھن ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکہ کے شہر شکاگو میں اتوار کو نیٹو ممالک کے رہنماؤں کے دو روزہ اجلاس کے دوران امریکہ کے صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دن کٹھن ہوں گے۔

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں افغانستان سے بین القوامی افواج کے انخلاء کا مسئلہ حاوی رہا۔

براک اوباما نے نے خبردار کیا کہ اب بھی مستقبل میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں کو وسائل مجتمع کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا ’جس طرح ہم نے اپنے باہمی تفظ کے لیے مل کر قربانیاں دیں، ہمیں اپنے مشن کی تکمیل کے عزم میں بھی متحد رہنا ہوگا۔‘

نیٹو دو ہزار چودہ کے آخر تک تمام سکیورٹی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کو منتقل کردےگا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی ذمہ داروں کو پوری طرح سمجھتا ہے۔

بعض نیٹو ارکان نے طالبان بغوات سے نمٹنے کے لیے افغان فورسز کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کیرولائن ویٹ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے ذریعے دو مختلف پیغامات دینے کی کوش کی گئی ہے۔ ایک تو نیٹو ممالک کے عوام کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں ان کی جنگ اب ختم ہو چکی ہے جبکہ افغانیوں کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ اتحاد دو ہزار چودہ کے بعد مکمل طورپر ان سے دستبردار نہیں ہوگا۔

نیٹو کا اجلاس پیر کے روز دوسرے دن بھی جاری رہے گا جس میں اس بات پر بات چیت کی جائے گی کہ افغانستان کی حمایت جاری رکھتے ہوئے کتنی رقم درکار ہوگی اور یہ کون دے گا۔

اتوار کے روز امریکہ کے شہر شکاگو میں شروع ہونے والے نیٹو ممالک کے رہنماؤں کے دو روزہ اجلاس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کی مالی معاونت جاری رکھے گی۔

نیٹو سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راسموسن نے کہا کہ نیٹو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ افغانستان میں نیٹو افواج کا مشن کامیابی سے اختتام پذیر ہو اور عجلت میں فوج کا انخلاء نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ فرانس کے نو منتخب صدر فرانسوا اولاند یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے تمام فرانسیسی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ نیٹو ملکوں کے دوسرے رہنماؤں پر بھی اپنے ملکوں میں افغانستان سے فوجیں جلد از جلد واپس بلانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نیٹو اجلاس میں شریک رہنما اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ فرانس کی طرف سے اسی سال اپنے فوجی افغانستان سے نکال لینے کے فیصلے کے باوجود اتحادی ایک ساتھ کھڑے ہیں۔

نیٹو افواج کے انخلاء کے علاوہ نیٹو سربراہوں کو سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کے لیے چار ارب ڈالر کی سالانہ امداد کو یقینی بنانے کا مسئلہ درپیش ہے۔

امریکہ اس سلسلے میں ڈھائی ارب ڈالر کی سالانہ امداد دینے کا وعدہ کر چکا ہے جب کہ باقی امداد برطانیہ، جرمنی، فرانس اور آسٹریلیا کی جانب سے دی جانی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر زرداری اور صدر اوباما کے درمیان ملاقات کی اس وقت تک کوئی توقع نہیں ہے جب تک پاکستان رسد کی بحالی کا اعلان نہیں کر دیتا: اے پی

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اس کانفرنس میں شرکت کے لیے شکاگو پہنچے ہیں اور اس اجلاس میں پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان میں موجود ایک لاکھ سے زیادہ نیٹو کے فوجیوں کو رسد کی فراہمی کے بارے میں کسی اہم فیصلے کی توقع ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اوباما اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کی اس وقت تک کوئی توقع نہیں ہے جب تک پاکستان رسد کی بحالی کا اعلان نہیں کر دیتا۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اے پی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان نیٹو کی رسد کے راستوں کی بحالی کا معاہدے ہو جائے گا لیکن اس کی توقع نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران نہیں کی جا سکتی۔ دونوں ملک رسد لیجانے والے ٹرکوں سے کرائے راہداری کی رقم پر بحث ہو رہی ہے۔ اے پی نے ایک اعلی امریکی اہلکار کا نام ظاہر کیے بغیر ان کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس معاملے پر بہت فاصلہ ہے۔

صدر زرداری کی اس دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور دوسرے اعلی امریکی اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔

شکاگو کانفرنس سے قبل بیشتر مغربی ممالک کے رہنماوں نے کیمپ ڈیویڈ میں جی ایٹ ملکوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

اس اجلاس کے بعد امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ جی ایٹ کے ملکوں نے پوری سنجیدگی سے یورپ کو درپیش اقتصادی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

شکاگو میں نیٹو کانفرنس کے اجلاس سے ایک روز قبل نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے معاملے پر بات کریں گے۔

شکاگو میں ہونے والی کانفرنس میں پچاس ملکوں کے سربراہان اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں نیٹو کے اٹھائیس رکن ملکوں کے علاوہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا اصرار ہے کہ یہ انخلاء کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئِے کہا کہ نیٹو افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں بتدریج افغان حکام کو منتقل کر رہے ہیں اور یہ عمل سنہ دو ہزار چودہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے اس سے انحراف یا کوئی تضاد نہیں ہے۔‘

افغانستان پر امریکی حملے کو دس برس سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار تین سو اکتیس تک پہنچ گئی۔

اسی بارے میں