فوجی اڈے’مناس‘ کو زیر استعمال رکھنے کے لیے امریکہ کوشاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان کے دارالحکومت بشکک کے نزدیک واقع فوجی اڈے مناس کو افغانستان جانے اور آنے والا تقریباً ہر فوجی ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور یہاں قیام کرنے کے بعد اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوتا ہے۔

یہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور ٹھیکہ دار موجود رہتے ہیں۔

یہاں فوجی منصوبہ ساز افغانستان سے جنگی فوجی دستوں کے انخلاء کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے کہ افغانستان میں فوجی مشن کے خاتمے تک یہ فوجی اڈہ ان کے پاس ہی رہے۔

مئی کے مہینے میں ایک روز مناس ٹرانزٹ سینٹر پر فوجی معمول کے مطابق ورزش کر رہے تھے، اسی دوران افغانستان سے واپس امریکہ جانے والے سینکڑوں فوجی اڈے پر پہنچے اور وہ ایک بڑی بس سے اپنا سازو سامان نیچے اتار رہے تھے۔

اس وسیع و عریض فوجی اڈے پر ایک طرف فوجیوں کے لیے خواب گاہیں ہیں اور باقی جگہوں کو ایک موٹے کینوس کی مدد سے ڈھانپ کر فوجیوں کے لیے عارضی مکان بنا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Kyrgyz

دوسرے فوجی مخالف سمت میں تفریح کے لیے مختص کردہ حصے کی طرف جاتے ہیں یہاں پر ان کے انٹرنیٹ کی سہولت، پول ٹیبلز اور ورزش کے آلات موجود ہیں۔

ایک کمیونیکیشنز آپریٹرسیموئیل نوراش صبح پانچ بجے کے قریب فوجی اڈے پر پہنچے اور اسی شام پانچ بجے افغانستان کے لیے روانہ ہونا تھا۔

فوجی اڈے پر موجود زیادہ تر فوجیوں کی طرح وہ بھی کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں تاکہ دنیا خاص طور پر اپنے خاندان سے رابطہ کر سکیں۔

سیموئیل نوراش کے مطابق فوجیوں نے مشن کے خاتمے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ ’افغانستان میں کئی برس کی جنگ کے بعد اس وقت ذہنی کیفیت یہ ہے کہ ہم جتنی جلدی ممکن ہو سکے نکلنا چاہتے ہیں اور افغان لوگ خود اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، اس وقت کیفیت ہے کہ ’ گھر جانے کا وقت آ گیا ہے۔‘

آئندہ چند ماہ کے دوران افغانستان سے نکلنے والے تئیس ہزار فوجی مناس فوجی اڈے پر قیام کرتے ہوئے اپنی گھروں کو واپس لوٹ جائیں گے اور اسی طرح آنے والے اٹھارہ ماہ کے دوران دسویں ہزار فوجی اس اڈے سے گزریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Kyrgyz
Image caption وسطی ایشیا خاص طور پر کرغزستان کی ریاست لوجسٹک سپبورٹ فراہم کرنے میں اہم کرادر ادا کرتی رہے گی: کرنل جیمز جیکبسن

فوجی اڈہ مناس فوجیوں کے انخلاء کے حوالے سے اسی طرح اہمیت کا حامل ہے جس طرح گزشتہ دس سال کے دوران افغانستان میں فوجیوں کو پہنچانے میں اہمیت رکھتا تھا۔

فوجی اڈے کے سربراہ کرنل جیمز جیکبسن کے مطابق’ لوگوں کو واپس اپنے گھروں کو یا افغانستان بھیجنے کا چیلنج ایک جیسا ہی ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے حوالے سے پرعزم رہے گا۔

’امریکہ نے حال ہی میں افغانستان کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت داری کا ایک معاہدہ کیا ہے جس میں جولائی سال دو ہزار چودہ کے بعد بھی اس کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا گیا ہے اور میرے خیال میں یہ مکمل طور پر انخلاء نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ مشن میں کوئی تبدیلی ہو لیکن کسی تبدیلی کے ساتھ کچھ مدت کے لیے افغانستان میں مشن جاری رہے گا اور اس میں وسطی ایشیا خاص طور پر کرغزستان کی ریاست لوجسٹک سپبورٹ فراہم کرنے میں اہم کرادر ادا کرتی رہے گی۔‘

کرنل جیکبسن نے فوجی اڈے کے آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر ماہ آنے والے تین لاکھ فوجیوں کو خوراک فراہم کرنے کا انتظام ہے اور یہ کوئی کم انتظام نہیں ہے۔

تفریحی سرگرمیوں کے لیے مختص حصے میں ایک دیوار پر نیویارک فائر بریگیڈ کے سربراہ پیٹر جے گانسی کی تصویر نظر آتی ہے جو گیارہ ستمبر کے حملوں میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے تلے دبے افراد کو بچاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کا مقصد فوجیوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ وہ کیوں یہاں پر آئے ہیں۔

لیکن یہاں پر اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ کیا فوجی اڈہ امریکی مشن کے دوران ان کے زیر استعمال ہی رہے گا۔

ابھی تک اس فوجی اڈہ کو استمعال کرنے کی مدت سال دو ہزار چودہ میں موسم گرما تک ہے جو کہ نیٹو کے افغانستان میں جنگی مشن کے خاتمے سے کئی ماہ پہلے ہے۔

ابھی تک کرغزستان کی حکومت کی جانب سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا کہ وہ فوجی اڈے کو استعمال کرنے کی مدت میں اضافہ کر دیں گے جبکہ ملک کے کئی سیاست دان مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوجی اڈے کو بند کر دیا جائے۔

کرغزستان کے صدر المزبیک اتامبیایف خود گزشتہ سال کے آخر میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کی صورت میں فوجی اڈہ کرغزستان کے لیے ایک حقیقی خطرے میں تبدیل ہو سکتا ہے کیونکہ تنازع کی صورت میں خطے میں امریکی تنصیبات حملے کی زد میں آ سکتی ہیں۔

فوجی اڈے کے سربراہ کرنل جیکبسن کے مطابق ’امریکیوں کے خیال میں ایسی صورتحال بلکل پیش نہیں آئی گی‘۔

امریکہ مسلسل کرغزستان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ افغانستان میں تعاون خود اس کے مفاد میں ہے۔

حالیہ مہنیوں میں کئی اعلیٰ امریکی سفارت کاروں اور وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے بشکک کا دورہ کیا ہے تاکہ مذاکرات میں تیزی لائی جا سکے۔

امریکی اس وقت فوجی اڈے مناس کو استعمال کرنے کے عوض کرغزستان کو سالانہ چھ کروڑ ڈالر معاوضہ ادا کرتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ فوجی اڈے کو استعمال کرنے کی مدت میں اضافہ کرنے کی صورت میں معاوضے کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Kyrgyz

امید ہے کہ امریکی ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کرغزستان کی سابق صدر رزا اوتونبایوانے بی بی سی کو بتایا کہ’ فوجی اڈے کو بند کرنے کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔‘

’اس معاملے کو سال دو ہزار چودہ تک ترک کر دینا چاہیے اور اس کے بعد ہم دیکھیں کہ کیا صورتحال ہوتی ہے، میرے خیال میں افغانستان سے نکلنے کے لیے، وہاں کسی اور مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناس ایئر بیس نہایت اہمیت کا حامل اور ضروری ہے۔‘

ابھی تک تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ فریقین دیکھو اور انتطار کرو کی پالیسی پر خوش ہیں، سیموئیل نوراش کی طرح مناس ایئر بیس کے ذریعے افغانستان سے نکلنے یا جانے والے امریکی فوجیوں نے افادیت پر مبنی رویے کو نہیں کھویا۔

سیموئیل کا کہنا ہے کہ’صرف اسی صورت میں واپس اپنے گھر رہ سکتے ہیں جب افغانستان اپنے لوگوں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرنا سیکھ نہیں لیتا اور جب تک ایسا نہیں ہو گا وہ گھر نہیں جائیں گے۔‘

اسی بارے میں