روس: نیٹو کو ہوائی اڈہ دینے کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

روس میں دریائے وولگا کے کنارے ایک کسان ٹریکٹر کی مدد سے زمین کے زرخیز ٹکڑے کو فصل کاشت کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔

یہ انہتائی پرسکون اور دلکش علاقہ ہے لیکن اگر روسی حکومت اور نیٹو کے درمیان ایک مجوزہ سمجھوتہ طے پا جاتا ہے تو ان کھیتوں کے اوپر آسمان افغانستان سے اڑان بھرنے والے سازو سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بڑے ہوائی جہازوں کی آوازوں سے گونجتا رہے گا۔

نیٹو اتحاد دو ہزار چودہ میں افغانستان سے نکلنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث منصوبہ سازوں پر دباؤ ہے کہ وہ افغانستان سے انخلاء کے جنوبی راستے کاجو پاکستانی حدود سے ہو کر گزرتا ہے کوئی ممکنہ متبادل تلاش کریں۔

افغانستان سے انخلاء کا شمالی راستہ صرف روس سے ہی ممکن نہیں۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کرغزستان اور ازبکستان سے بھی ماضی میں بہت زیادہ فوجی رسد افغانستان پہنچائی گئی۔

تاہم بعد میں کرغزستان میں سیاسی عدم استحکام اور ازبکستان میں آمر حکومت سے محدود تعلقات نے نیٹو اتحاد کو متبادل راستہ تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

اس کے علاوہ روس کے قومی دریا سمجھے جانے والے وولگا کے مشرقی کنارے پر الیانووسک میں واقع ایک ہوائی اڈے’ الیونسک ووستو چنی‘ کو سپلائی کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔

اس ہوائی اڈے کا پانچ کلومیٹر طویل رن وے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ہوائی جہازوں کے لیے موزوں ہے۔ جبکہ سو میٹر سے کم فاصلے پر ہی ایک ریلوے کی پٹری ہے۔ یہاں سے سازو سامان کو ریل گاڑیوں کے ذریعے بندرگاہ تک لایا جائے گا اور وہاں سے بحیرہ بالٹک سے ہوتے ہوئے وہ سمندر کا سفر کرےگا۔

اس کے علاوہ یہ ہوائی اڈہ وولگا ڈینیپر نامی ہوائی کمپنی کے زیر استعمال ہے جو تجارتی سامان اٹھانے والے ہوائی جہازوں کا بیڑہ چلاتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ ایسے سازو سامان کی ترسیل کے لیے ہے ایک اچھا پڑاؤ ہے جسے ایشیا سے یورپ تک کا پانچ ہزار کلومیٹر طویل سفر کرنا ہو۔

لیکن اس بارے میں روس کی کیمونسٹ پارٹی سے کسی سے نہیں پوچھا۔

الیانووسک سویت ریاست کے بانی لینن کی جائے پیدائش ہے اور انہیں یہاں اب بھی حمایت حاصل ہے۔

افغانستان سے انخلاء کے لیے مجوزہ اڈے کی خبر الیانووسک سمیت دارالحکومت ماسکو میں احتجاج کے ایک طوفان کا باعث بنی ہے۔

کمیونسٹوں کے ناراض ہجوم نے ہوائی اڈے کا محاصرہ کر لیا اور ان کے حامیوں نے قصبے میں لینن کے مجسمے کے سامنے اکٹھے ہو کر احتجاجی ریلی نکالی اور روسی حکومت ’غدار‘ کے نعرے لگائے۔

مقامی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن اور ایک کامیاب تاجر نیاری چاٹینیان کا کہنا تھا کہ ’اسے آپ جو بھی کہیں، انخلا کا ایک پڑاؤ، ایک فوجی اڈا ، اس سے ایک بات تو نہیں بدلے گی، یہ نیٹو کو یہاں ایک مضبوط ٹھکانہ فراہم کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وہ اس معاملے کو خبروں میں رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ محاصرہ اور ہوائی اڈے کے قریب ایک ناکام بھوک ہڑتال کے ساتھ ساتھ انہوں نے الیانووسک کے نواح میں ذاتی خرچ پر ایک بہت بڑا اشتہاری بورڈ بھی نصب کروایا ہے۔ اس پر تحریر ہے کہ ’نیٹو کو خوش آمدید‘ لیکن اس جانی پہچانی تصویر میں روسی ملاحوں کو دریائے وولگا کے کنارے نازی فوج سے جنگ کرتے ہوئے بھی دیکھایا گیا ہے۔

مسٹر چاٹینیان کی دلیلیں الیانووسک میں نیٹو کی موجودگی پر ہونے والی بحث کا مرکزی خیال ہیں۔

اس منصوبے کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ نیٹو اتحاد ایک بار جہاں قدم جما لے وہ وہاں سے جانے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کمیونسٹوں کو یہی خوف ہے کہ الیانووسک میں نیٹو کے انخلاء کا پڑاؤ اتحادی افواج کا مستقل ٹھکانہ بن جائے گا۔

افغانستان سے منشیات کی ممکنہ سمگلنگ دوسری بڑی پریشانی ہے۔

اور حقیقت تو یہ کہ روس کی کسٹم انتظامیہ وہاں آنے والے ہر کنٹینر کا معائنہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکے گی اور یہ روس کی سالمیت کے لیے ایک توہین آمیز پہلو ہے۔

ماسکو میں نیٹو کے معلوماتی شعبے کے سربراہ رابرٹ فسل کے مطابق یہ تمام خدشات ایک شدید نوعیت کی غلط فہمی کے باعث ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں برسوں تک نیٹو کی مہم کے لیے اتحادی افواج کا سامان روس کی ریلوے کے ذریعے ہی میدانِ جنگ تک لے جایا گیا۔ اس وقت تو کوئی خاص مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا ’یہاں روس کے راستے سے نیٹو کا کوئی فوجی سفر نہیں کرے گا نہ ہی کوئی خطرناک آلات روسی سرزمین سے گزارے جائیں گے اور جہاں تک منشّیات کی سمگلنگ کا معاملہ ہے روسی حکومت اور ہمارے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدہ میں تمام اختیارات واضح کیے جائیں گے۔‘

رابرٹ فسل نے اختیارات کی تفصیلات تو نہیں بتائیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیٹو حکام روسی حکومت اور ان کے کسٹم حکام کو مطمئن کریں گے۔

کوئی تبدیلی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

روسی تبصرہ نگار کے نزدیک حزب اختلاف کے خدشات شکوک و شبہات سے بھرپور ہیں۔

سیات اور فوجی معاملات پر نظر رکھنے والے ایک ادارے سے منسلک مسٹر ایلگزینڈر کرمچیخن کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو نے آخر کار دریائے وولگا کے کنارے الیانووسک میں باقاعدہ فوجی اڈہ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا تو اس صورت میں نیٹو خود مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ روس اور نیٹو کے درمیان کوئی بھی بالفرض یا قیاساً جھگڑا اس طرح کے فوجی اڈے کو ’یرغمال‘ بنا دیے گا۔

ماسکو میں پی آئی آر ادارے سے منسلک ایک تجزیہ کار ویدم کوزیولن ٹرانزٹ پوائنٹ یا سپلائی کے لیے استعمال ہونے والا اڈہ نظریاتی طور پر ایک فوجی اڈے میں تبدیل ہو جائے گا لیکن یہ صرف روسی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ طے پانے کی صورت میں ہی ممکن ہو سکے گا اور بظاہر روسی حکومت اس قسم کی کسی بھی درخواست کو منظور نہیں کرے گی۔

’روس سے افغانستان میں نیٹو سپلائی کے لیے استعمال ہونے والے الیانووسک کے ٹرانزٹ پوائنٹ سے کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہو گا کیونکہ کسی نہ کسی صورت میں’ فوجی بوٹ یا فوج کی موجودگی‘ پہلے ہی سے یہاں پر ہے۔ یہ زیادہ بہتر ہو گا ان کو یہاں پر اپنے نگرانی میں رہنے دیا جائے بجائے اس کہ یہ روسی سرحدوں کے نزدیک کسی جگہ موجود ہوں اور اس صورت میں ان کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے نیٹو کو ٹرانزٹ پوائنٹ یا نقل و حرکت کے لیے جگہ دینے کا یکطرفہ فیصلہ، اس کا سوویت یونین کی سابق ریاستوں کے ساتھ کیے جانے والے سکیورٹی کے معاہدے’ سی ایس ٹی او‘ کی ساکھ کو تباہ کر دے گا۔

ویدم کوزیولن کے مطابق اس طرح کا فیصلہ ’سی ایس ٹی او‘ کے خلاف جائے گا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی غیر ملکی فوجی طاقت کی موجودگی پر مشترکہ طور پر فیصلہ کیا جائے گا۔

اور اس صورت میں اس کا مستقبل میں اس وقت نقصان ہو سکتا ہے جب امریکہ یا نیٹو سابق سوویت یونین کی ریاستوں کے پاس براہ راست کسی معاہدے کے لیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی مسائل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دونوں ماہرین کے مطابق روسی حکام اپنے ہی نیٹو مخالف بیانات کے متاثرین بن گئے ہیں جو کئی سالوں تک سابق سوویت یونین کے دقیانوسی تصورات اور اس کے بعد نیٹو کے مشرقی یورپ میں توسیع کے منصوبے کے خلاف مبنی تھے۔

’ اب اچانک یہ ہی نعرے روسی حکومت کی مخالفت میں تبدیل ہو گئے ہیں، الیانووسک ٹرانزٹ پوائنٹ کی مخالفت کرنے والوں کے پاس کچھ زیادہ دلائل نہیں تھے لیکن روسی حکام کے سابق موقف نے ان کو کھیلنے کا زیادہ موقع دیا ہے۔‘

روس میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی وجہ سے کسی کو اس کا یقین نہیں ہے کہ ان محدود مظاہروں سے روسی حکومت کو اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مزاحمت پیدا ہو چکی ہے اور یہ عام اختلاف کی وجہ بن سکتی ہے جس طرح کے روس میں حالیہ صدارتی انتخابات میں دیکھنے کو ملی اور یہ بین لاقوامی سیاست کی بجائے روس کا اندرونی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

الیانووسک خطے میں کیمونسٹ پارٹی کی کمیٹی اس مسئلے پر اپنا دباؤ برقرار رکھے گی اور حکام پر زور دے گی کہ وہ اس مسئلے پر علاقے میں رائے شماری کرائے اور یہ بہت حد تک ناممکن نظر آتا ہے کہ روسی حکومت اس رائے کو قبول کرے۔

اسی بارے میں