افغان فوج کی پذیرائی

افغان فوج
Image caption نیٹو افواج کی واپسی سے قبل ہی افغان فوج کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کے شہر شکاگو میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس میں افغان فورسز کو سکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی اور مستقبل میں مالی وسائل کی فراہمی اہم موضوعات ہوں گے۔

کئی شہروں اور صوبوں میں افغان نیشنل آرمی، پولیس اور سپیشل فورس نے ذمہ داری سنبھال لی ہیں۔ اور حالیہ مہینوں میں انھوں نے باغیوں کے کئی حملوں کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جوں جوں ان کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے انہیں نہ صرف نیٹو ممالک کی جانب سے پذیرائی ملی ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگو ں نے بھی ان کی تعریف کی ہے۔

اس سال کابل میں پندرہ اپریل کو ہونے والے حملے کی ایک یادگار تصویر ہے جس میں ایک زخمی افغان کمانڈوکو چلتے ہوۓ دکھایا گیا ہے۔ اس نے ایک کلاشنکوف رائفل اٹھا رکھی ہے اور اس کی دائیں گھٹنے کے اوپر خاکی پتلون خون آلود ہے۔

یہ تصویر فوج سے عوامی تعاون کی علامت کی نئی لہر بن کر ابھری ہے اور اس کا اظہار انٹرنٹ پر اورذرائع ابلاغ پر بھی نظر آتا ہے۔

سوشل نٹورکنگ سائٹ فیس بک پر اس تصویر پر سینکڑوں لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

ایک شخص نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے ’یہ میری زندگی کا سب سے زیادہ فخریہ لمحہ ہے کہ میں ایک حقیقی ہیرو کو دیکھ رہا ہوں۔‘

ایک دوسر ے نے لکھا ’اس نے مجھے خوشی کے آنسو رلوایا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے یہاں ایسے ہیرو ہیں جو دشمنوں کو شکست دینے کے لیے اپنی جان پیش کر دیتے ہیں اور جو ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم محفوظ افغانستان میں رہ رہے ہیں۔‘

پندرہ اپریل کو جب جنگجوؤں نے کابل کی سڑکوں سمیت شہر کے کئی حصوں پر بیک وقت دھاوا بول دیا تھا تو افغان پولیس اور کمانڈوز نے ان سے اٹھارہ گھنٹے جنگ کی تھی۔ اس میں دو افغان فوجی اور سترہ جنگجو مارے گئے تھے۔

نیٹو نے مقامی فورسز کے کردار کی جانب فوری اشارہ کیا جو ان کی روز افزوں صلاحیت کا مظہر ہے۔

آئی ایس اے ایف کمانڈر جان ایلن نے کہا کہ اس قسم کے جواب پر انہیں فخر ہے۔ انھوں نے کہا: ’وہ لوگ فوری طور پر جائے وقوع پر بہتر رہنمائی اور بھر پور تعاون کے ساتھ موجود تھے۔ انھوں نے اپنی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کی، شہریوں کو تحفظ میں مدد کی اور شدت پسندوں کو روکے رکھا۔‘

یہ ایک ایسا پیغام ہے جسے نیٹو افغان فوجیوں کی تربیت، اپنی واپسی اور سکیوریٹی کی ذمہ داری ان کے حوالے کرنے کے سلسلے میں تواتر کے ساتھ پیش کر رہا ہے لیکن فوجی خول سے باہر اس کا زیادہ اثر نظر آتا ہے۔

افغان بوخدی نیوز نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی کہ ’طالبان کے ساتھ جنگ سے لے کر لوگوں کے دل جیتنے تک۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان فوج پندرہ اپریل کے حملے کے خلاف پوزیشن لیتے ہوئے۔

سب سے زیادہ فخر کا اظہار شوسل نٹورکنگ سائٹ فیس بک اور ٹوئیٹر پر دیکھنے میں آیا جہاں افغان فوج اور پولیس کے حوالے سے کئی صفحات سامنے آئے۔

ایک تصویر میں افغان کی اعلیٰ یونٹ کے دو اراکین کو دکھایا گیا ہے جو ایک عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی بہادری پر کئی توصیفی کلمات آئے ہیں۔

عبد الاحد سباعون نے لکھا ہے۔ ’اللہ ہماری اے این اے کو مزید قوت دے تاکہ وہ ملک اور اسلام کے دشمن کو شکست دے سکیں۔‘

نوجوانوں کے ایک گروپ نے اجتماعی بحث میں لکھا ہے کہ ’اگر آپ اس طرح کی تصویر دیکھیں اور خوشی سے رو نہ پڑیں تو آپ افغان نہیں ہیں۔‘

ایک اور گروپ نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ افغان فوج کی حمایت میں وہ کابل کو پوسٹروں، اسٹیکروں اور لیف لٹ سے بھر دیں گے۔

لیکن اس طرح کے خیالات کا اظہار پندرہ اپریل کے حملے سے قبل بھی ہوتا رہا ہے اور افغان حکومت نے اس قسم کے جذبات کی پرورش بھی کی۔

اسی سال کے شروع میں خودکش حملوں کو ناکام بنانے میں مرنے والے فوجیوں کے اعزاز میں کابل میں پروگرام ہوئے اور ان کے ورثاء کو زمین اور پیسے دیے گئے۔

اسی بارے میں