اٹلی: زلزلے میں نو ہلاک، ہزاروں بے گھر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام اب بھی تین ہزار افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں کا انتظام کر رہے ہیں۔

اٹلی میں اتوار کو شمالی علاقے میں طاقت وار زلزلے کے بعد آنے والے آفٹ شاکس کی وجہ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد رات عارضی پناہ گاہوں میں گزار رہے ہیں۔

اٹلی کے شمالی علاقے میں اتوار کی صبح آنے والے اس زلزلے میں سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پچاس کے قریب زخمی ہیں۔

ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت چھ ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز بولونیا شہر سے بائیس میل دور شمال میں تھا۔

زلزلے کی وجہ سے کئی تاریخی عمارتیں کو شدید یا جزوی نقصان پہنچا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ بےگھر ہونے والے تین ہزار افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں کا انتظام کرنا ہے۔

فینالے ایمالایا شہر میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک فٹبال سٹیڈیم میں خیمے نصب کر رہے ہیں تاکہ سینکڑوں افراد کی رہائش کا انتظام کیا جا سکے۔

شہر میں کئی لوگوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ زیادہ تر رہائشی خوف کی وجہ سے واپس اپنے گھروں کو نہیں جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے سے تاریخی عمارتوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ بس یہ چاہتی ہیں کہ ان کے عمر رسیدہ والدین کو رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ مل جائے۔

انہوں نے کہا کہ’ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہم کار میں رات گزار لیں گے لیکن اہم چیز یہ ہے کہ انتظامیہ خیموں نصب کر لیں تاکہ وہاں میرے والدین رات گزار سکیں۔‘

یہ زلزلہ جنوری دو ہزار نو میں وسطی اٹلی میں آنے والے زلزلے سے اب تک کا شدید ترین زلزلہ ہے۔ دو ہزار نو میں آنے والے زلزلے میں تین سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اٹلی میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اٹلی کے شمال میں چھوٹے موٹے زلزلے آتے رہتے ہیں چنانچہ زلزلوں سے نمٹنے کے لیے اٹلی میں معقول انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں