سری لنکا:سابق فوجی سربراہ کی رہائی کا حکم

Sarath Fonseka
Image caption قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد فونسیکا کو پیر کے روز رہا کیا جائے گا۔

سری لنکا کے صدر مہندا راجپكشے نے جیل میں قید سابق فوجی سربراہ سرتھ فونسیکا کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

صدر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد فونسیکا کو پیر کے روز رہا کیا جائے گا۔

دو سال پہلے یعنی دو ہزار دس میں صدر مہندا راجپكشے کے خلاف الیکشن لڑنے کے بعد سرتھ فونسیکا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

سنہ دو ہزار نو میں تامل باغیوں کے خلاف سری لنکن فوج کی جیت کا سہرا جنرل سرتھ فونسیکا کے سر قرار دیا جاتا ہے۔

اس وقت سری لنکا میں تامل باغیوں پر فتح کی تیسری سالگرہ منائی جا رہی ہے اور سنیچر کو دارالحکومت کولمبو میں فوج کی ایک بڑی پریڈ ہوئی ہے۔

سرتھ فونسیکا کے اتحادی اور پارلیمنٹ رکن ترن ایلس نے بی بی سی کو بتایا کہ فونسیکا کو پیر کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیر کو ہی ان کو ہسپتال سے بھی چھٹی مل جائے گی۔

فونسیکا کو سانس کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کرنا پڑا تھا۔

سری لنکا کے وزیر خارجہ اس وقت واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے مل رہے ہیں۔

وہ سری لنکا کی فوج پر لگے جنگی جرائم کے الزامات سے بچاؤ کی کوشش کریں گے۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیويلینڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ سرتھ فونسیکا کو سیاسی قیدی کہتا ہے لیکن ایک بار وہ جیل سے رہا ہوں گے تو سری لنکا پر لگنے والے جنگی جرائم کے تمام الزامات کے جواب انہی کو دینا ہوں گے۔

سری لنکا میں تامل باغیوں کی جدوجہد انیس سو اسّی میں شروع ہوئی۔ جب انہوں نے بڑھتے سنہالی دبدبے کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اپنے لئے الگ ملک کا مطالبہ شروع کیا۔

حالانکہ اس جدوجہد کا مرکز تامل اکثریتی شمالی سری لنکا میں ہی رہا لیکن انیس سو نوے کی دہائی میں تامل باغیوں کی تنظیم ایل ٹی ٹی ای نے دارالحکومت کولمبو میں بھی کئی بڑے حملے کیے۔

تامل باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ہونے والی جنگ میں تقریباً ستر ہزار لوگ مارے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ فوج نے تامل باغیوں کے خلاف لڑائی میں مظالم ڈھائے اور عام شہریوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم سری لنکا کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اسی بارے میں