’صدر اوباما کو انہماک سے دیکھتے رہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کے شہر شکاگو میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر نیٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ امریکی میڈیا کا نمایاں موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی اخبارات نے اس خبر کو نمایاں جگہ دی کہ صدر باراک اوباما کی طرف سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ان کی مصروفیات کا حصہ ہی نہیں۔

کانفرس کے موقع پر جہاں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو خاصی پذیرائی ملی وہیں نیٹو کی دعوت پر شرکت کرنے والے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو سرد مہری کا سامنا رہا اور اس بات کا امریکی میڈیا نے باقائدہ تذکرہ بھی کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے صحفہ اول کی خبر میں یہاں تک دعویٰ کیا کہ صدر باراک اوباما نے صدر آصف علی زرداری سے ملنے سے ہی انکار کر دیا ہے اور اب وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گے۔

خیال رہے کہ نیٹو اجلاس کے دوسرے روز صدر اوباما نے غیر رسمی طور پر صدر زرداری سے مختصر ملاقات کی ہے۔

نیٹو اجلاس کی رپورٹنگ کرنے والے پاکستانی صحافیوں کے مطابق بھی اجلاس میں افغانستان کی زبردست پذیرائی ہوئی اور صدر زرداری کے ساتھ سرد مہری بہت نمایاں اور محسوس ہونے والی چيز تھی۔

اخبار شکاگو ٹربیون کے مطابق اجلاس میں ایساف کی مدد کرنے پر وسطیٰ ایشیائی ریاستوں اور روس کا بھی شکریہ ادا کیا گیا لیکن پاکستان کا قابل ذکر حد تک کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ صدر باراک اوباما کی طرف سے وسطیٰ ایشیائي ریاستوں اور روس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری جو کانفرنس کی اسی گول میز پر ہی اپنی نشت پر براجمان تھے، صدر باراک اوباما کو انہماک سے دیکھتے رہے۔

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں نمایاں سرخی لگائي کہ’نیٹو کانفرنس میں سربراہان کا گرمجوشی سے استقبال لیکن پاکستان نہیں۔‘

اخبار نے اسی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ صدر اوباما صدر آصف زرداری سے ملاقات نہیں کریں گے کیونکہ امریکی حکام پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائي کی بحالی پر انکار سے سخت ناراض ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکی سیکرٹری دفاع لیوں پینیٹا نے نیٹو کانفرنس کے پہلے دن وسطیٰ ایشیا کی پانچ ریاستوں کے سربراہان سے نیٹو سپلائی لائن کے متبادل راستے کے حوالے سے بات چیت کی جو افغانستان سے انخلاء کے وقت استعمال کی جائے گی اور یہ اچھی خاصی مہنگی پڑے گی۔

شکاگو کے پبلک ریڈیو سات سو بیس ڈبلیو جی این کا کہنا تھا کہ نیٹو کانفرس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کا گرمجوشی سے استقبال لیکن پاکستان کا نہیں جو امریکہ سے پاکستان کے زمینی راستے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو ’غیر مہلک رسد‘ کی ترسیل پر فی ٹرک پانچ ہزار ڈالر مانگ رہا ہے۔

لیکن مشہور امریکی پبلک ریڈیو نیشنل پبلک ریڈیو یا این پی آر نے کہا ہے کہ نیٹو سپلائي لائن کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ تنازع نیٹو کانفرنس کی کامیابی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اسی بارے میں