مصر:صدارتی الیکشن میں دوسرے دن بھی ووٹنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولنگ کے موقع پر مصری عوام میں جوش و خروش پایا جاتا ہے

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بننے والی احتجاجی تحریک کے پندرہ مہینے بعد عوام پہلی مرتبہ آزادانہ صدارتی انتخاب میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

جمعرات کو ووٹنگ کا دوسرا دن ہے اور پولنگ مراکز کے باہر ایک مرتبہ پھر قطاریں دیکھی گئی ہیں تاہم ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد بدھ کے مقابلے میں کم ہے۔

مصر میں صدارتی انتخاب: تصاویر میں

ڈیڑھ سال پہلے اٹھائیس برس تک اقتدار براجمان رہنے والے صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ پہلے صدراتی انتخابات ہیں۔

اگر اس مرحلے میں کوئی امیدوار واضح اکثریت حاصل نہ کر سکا تو پھر سولہ اور سترہ جون کو دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے۔

اس سے پہلے پارلیمانی انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

دو دن جاری رہنے والے ان انتخابات میں بارہ صدارتی امیدوار حصہ لے رہے ہیں تاہم ان میں نمایاں چار امیدواروں کا تعلق یا تو اسلامی جماعتوں سے ہے یا پھر وہ سابق صدر حسنی مبارک سے منسلک رہے ہیں۔

صدراتی امیدواروں میں سب سے نمایاں سابق وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل امر موسیٰ، سابق وزیر اعظم شفیق احمد، آزاد امیدوار عبدل مونم فتوح اور محمد مرسی ہیں۔ محمد مرسی کا تعلق اخوان المسلمین کی سیاسی جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی سے ہے۔

پہلے روز لوگوں نے پرامن انداز میں ووٹنگ میں حصہ لیا ہے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقع کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس موقع پر مصر بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔

مصر میں حسنی مبارک کے بعد اقتدار سھنبالنے والی عبوری فوجی کونسل نے ملک میں شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی حکومت کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔

امورِ مشرق وسطی کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک کا آغاز کرنے والے سیکولر سماجی کارکنان کسی بھی ایسے امیدوار کو سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں جو مصری عوام کو اپنی طرف مائل کر سکتا۔

مصر کے صدارتی انتخابات میں جو بھی فاتح قرار پائے گا اس کے لیے بڑا چیلنج ملک کے تباہ کن معاشی حالات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کی طاقت ور فوج سے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینا شامل ہے۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں موجود بی بی سی کے وائر ڈیویز کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن عوام کے لیے مذہبی یا سیاسی قوتوں کے درمیان انتخاب نہیں بلکہ اس قوت کا انتخاب ہے جو انہیں دو وقت کی روٹی فراہم کرنے میں مدد دے سکے۔

صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا۔ قاہرہ میں ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک بہت بڑا دن ہے۔ یہ مصریوں کے لیے اصل تبدیلی لانے کا عظیم موقع ہے‘۔

ایک اور خاتون سے جب پوچھا گیا کہ وہ کتنی دیر سے ووٹ ڈالنے کی منتظر ہیں تو ان کا جواب تھا ’تیس سال سے‘۔

ایک مرد ووٹر کا کہنا تھا کہ نئے صدر کے لیے اہم ہوگا کہ وہ اپنا پروگرام لے کر آئے۔ ’دراصل اسے ہی انقلاب لے کر آنا ہوگا یا پھر اسے اس انقلاب میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ وہ چیز ہے جس پر بحث کی گنجائش ہی نہیں‘۔

اسی بارے میں