یمن :چار ارب ڈالر کی امداد کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عرب اور مغربی ممالک نے یمن کی ترقی کے لیے چار ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے پڑوسی ملک یمن کے لیے سب سے زیادہ یعنی تین ارب ڈالر کی امداد کی اعلان کیا ہے۔ سعودی یمن کی سکیورٹی فورسز کو مضبوط کرنے اور ملک میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے خرچ کرے گا

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بعد یمن کو القاعدہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور امریکہ وہاں بھی ڈرون حملے کرتا رہتا ہے۔

امدادی ایجنسیوں نے خبر دار کیا ہے کہ یمن خوراک کے بحران کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

یمن پر ہونے والی کانفرنس میں یمن کی حکومت نے دس ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔

یمن میں جمہوریت کے لیے چلنے والی تحریک کے نتیجے میں تین عشروں سے اقتدار پر براجمان عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

القاعدہ نے بھی یمن کو اپنا مضبوط گڑھ بنا لیا ہے اور وہاں سے بیرونی ممالک پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

فرینڈز آف یمن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نےکہا کہ اس امداد کا مقصد یمن میں استحکام کا حصول ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

اس موقع پر یمن کے وزیر خارجہ ابو بکر الکربی نے کہا کہ امداد کا اعلان یمن اور سعودی عرب کے خصوصی تعلقات کی تصدیق کرتا ہے۔

انہوں نے کہا سعودی عرب یمن میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کے خطرے سے پوری طرح آگاہ ہے۔