منحرف چینی وکیل کے بھائی گاؤں سے فرار

شین گوانفو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منحرف چینی وکیل کے بھائی شین گوانفو قانونی مشورے کے لیے بیجنگ پہنچے

منحرف چینی وکیل شین گوانشین کے بڑے بھائی شین گوانفو اپنے گاؤں سے بھاگ کر چینی دارالحکومت بجینگ پہنچ گئے ہیں۔ ان کے گاؤں کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی۔

شین گوانفو اپنے بیٹے کے لیے قانونی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے کے خلاف مقامی سرکاری اہلکاروں کے ساتھ تصادم کا الزام ہے۔

وکیل ڈنگ شیکوئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے سلسلے میں بیجنگ میں وکیلوں سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔

شین گوانشن جو اب امریکہ میں ہیں انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نابینا منحرف کارکن شین گوانشین اپریل میں جب نظربندی سے فرار ہو کر بیجنگ میں موجود امریکی سفارت خانے پہنچ گئے تھے تو چین اور امریکہ کے مابین ایک قسم کا سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔

شین گوانشین کو اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ امریکہ جانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور ان کے بچوں کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے تاہم ان کے دوسرے رشتے دار چین میں ہی رہ گئے ہیں۔

وہ شانڈونگ صوبے کے ڈانشیبو گاؤں میں رہتے ہیں جہاں سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔

ڈنگ شیکوئي نے بی بی سی سے کہا کہ شین گوانگفو سے ان کی جمعرات کی صبح ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ رات میں بچ بچا کر نکلے اور بس لیکر بیجنگ پہنچے‘

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی آزادی اور اپنے بیٹے کے سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کے لیے بیجنگ آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منحرف چینی وکیل امریکہ پہنچ گئے ہیں۔

ان کے بیٹے شین کیگوئی پر ’ قتل‘ کا الزام ہے جو شین گوانشین کے ‏غائب ہونے کے فورا بعد مقامی اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے نتیجے ہوا تھا۔ یہ اہلکار ان کے گھر آئے تھے۔ ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا دفاع کر رہا تھا۔

شین کی بیوی رین زانگجو نے بتایا کہ کس طرح مقامی اہلکار ان کے گھر آئے اور ان کے بیٹے پر حملہ آور ہوئے۔

انھوں نے کہا ’ان لوگوں نے گھر کے اندر لڑائی شروع کر دی۔ بہت سے لوگ ان کے ساتھ مار پیٹ کر رہے تھے۔ ان کے چہرے اور ٹانگوں سے خون بہہ رہا تھا اورانکا پاجامہ پھاڑ دیا گیا تھا‘۔

بی بی سی کے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ شین گوانشین کا معاملہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ چینی اہلکار کس طرح منحرف لوگوں کے رشتہ داروں کو سزائیں دیتے ہیں۔

ہر چند کہ شین کے حامی ان کے بچ نکلنے کو فتح کے طور پر منا رہے ہیں لیکن شین نے کہا ہے کہ اس کا خمیازہ اس کے خاندان والوں کو بھگتنا کرنا پڑے گا۔

تقریباً ایک ماہ پہلے شین گوانشین بیجنگ میں اپنے گھر پر نظربند تھے تاہم وہ وہاں سے بھاگ نکلے اور امریکی سفارتخانے میں ایک ہفتہ پناہ لینے کے بعد اپنی مرضی سے وہاں سے چلے گئے تھے۔

باہر آنے کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جب سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے فرار ہونے کے بعد ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے تب سے وہ چین میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں

اسی بارے میں