مصر صدارتی الیکشن: ووٹوں کی گنتی جاری

Image caption انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے

مصر میں دو روزہ صدارتی انتخاب میں پولنگ کی تکمیل کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

ووٹوں کی گنتی کا آغاز جمعرات کو پولنگ کے اختتام کے فوراً بعد ہوا۔ یہ گنتی اختتام ِہفتہ تک جاری رہے گی اور انتخاب کے حتمی نتائج کا اعلان منگل کو متوقع ہے۔

مصر میں صدارتی انتخاب: تصاویر میں

اٹھائیس برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے مصری صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ پہلے صدراتی انتخابات ہیں اور پانچ کروڑ مصری عوام ان میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

اس انتخاب میں بارہ صدارتی امیدوارں نے حصہ لیا جن میں سے نمایاں چار امیدواروں کا تعلق یا تو اسلامی جماعتوں سے ہے یا پھر وہ سابق صدر حسنی مبارک سے منسلک رہے ہیں۔

پولنگ کے خاتمے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صدارتی امیدوار محمد مرسی کی تنظیم اخوان المسلمون نے اعلان کیا ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق محمد مرسی کو اس انتخاب میں سبقت حاصل ہے۔

محمد مرسی کے علاوہ اس الیکشن میں صدارت کے دو اور مضبوط امیدوار سابق وزیراعظم احمد شفیق اور عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل امر موسیٰ ہیں۔ یہ دونوں حسنی مبارک حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔

ان امیدواروں میں سے کوئی اگر اس مرحلے میں واضح اکثریت حاصل نہ کر سکا تو پھر سولہ اور سترہ جون کو پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے مابین دوبارہ الیکشن ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولنگ کے موقع پر مصری عوام میں جوش و خروش پایا گیا

نامہ نگاروں کے مطابق مصر کے صدارتی انتخابات میں جو بھی فاتح قرار پائے گا اس کے لیے بڑا چیلنج ملک کے تباہ کن معاشی حالات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کی طاقت ور فوج سے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینا شامل ہے۔

جمعرات کو رات گئے اخوان المسلمون کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کے نائب چیئرمین اعصام ال اریان نے قاہرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یقین ہے اور جیسا کہ ابتدائی اشارے ملے ہیں ہمارے امیدوار کو سبقت حاصل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اندازے تیرہ ہزار پولنگ مراکز میں سے دو سو چھتیس کے نتائج کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس صدارتی انتخاب سے قبل ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں بھی مذہبی جماعتوں نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

مصر میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے مجموعی طور پر اس الیکشن کو شفاف اور پرامن قرار دیا ہے۔

مصر میں حسنی مبارک کے بعد اقتدار سنبھالنے والی عبوری فوجی کونسل نے ملک میں شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی حکومت کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں