آئی ایم ایف: یونان اپنی مدد خود کرے

کرسٹن لیگارڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محترمہ لیگارڈ کا کہنا ہے کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے یونان کو خود اپنی مدد کرنی چاہیے

عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے کہا ہے کہ یونان کے شہری ٹیکس دینے سے گریز کرنا بند کریں اور مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی مدد خود کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اقتصادی بحران کے شکار اس یورپی ملک کے عوام کی بجائے وسطی اور جنوبی افریقی ممالک میں بچوں کی دردناک حالت کی زیادہ فکر ہے۔

گارڈیئن اخبار کے ساتھ ایک انٹریو میں کرسٹین لیگارڈ نے کہا اب وقت ہے آگیا ہے کہ یونان اپنے واجبات ادا کرے۔

واضح رہے کہ یورو زون کے ممالک نے یونان کو مالی امداد کے طور پر کئی بلین ڈالر کی امداد دی تھی اور یونان نے عہد کیا تھا کہ وہ اس قرضے کے بدلے میں اپنے اخراجات میں کٹوتی کرے گا۔

جن ممالک نے یہ امداد دی تھی ان میں فرانس اور جرمنی نے سب سے زیادہ رقم دی تھی۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یونان کو مدد دے کر وہ اسے یوروزون کا حصہ بنائے رکھیں۔ یونان میں مئی میں ہونے والے انتخابات بے نتیجہ رہنے کے بعد یہ معاہدہ خطرے میں پڑتا نظر آرہا ہے۔

یونان میں جون میں دوبارہ انتخابات متوقع ہیں لیکن اس سے پہلے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یونان کو یوروزون چھوڑنے کے لیے کہا جاسکتا ہے یا اسے یوروزون چھوڑنا پڑسکتا ہے۔

گارڈیئن کو دیے انٹریو میں کرسٹین لیگارڈ نے مزید کہا ہے ’جہاں تک ایتھینس کا سوال ہے، میں ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچتی ہوں جو ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔ یہ وہ سارے یونانی لوگ ہیں جو ٹیکس دینے سے بچنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں یونان کے شہریوں کو مل کر اپنے ملک کی معیشت کو سنبھالنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نائجر کے اس سکول کے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو دن میں صرف دو گھنٹے سکول میں پڑھ سکتے ہیں، تین بچے ایک ہی کرسی پر باری باری بیھٹتے ہیں اور جو تعلیم حاصل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں ان کے بارے میں ہمیشہ سوچتی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں ان کے بارے میں یونان کے لوگوں سے زیادہ سوچتی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ یونان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرئے۔

واضح رہے کہ یونان گزشتہ پانچ برس سے مالی بحران کا شکار ہے۔ یونان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

اسی بارے میں