شامی حکومت بھاری اسلحے کا استعمال روکے: اقوام متحدہ

ہولہ
Image caption برطانیہ، فرانس اور عرب لیگ نے بھی اس تشدد کی مذمت کی ہے

اقوام متحدہ نے شام میں نگران مشن کی طرف سے حولہ قصبے میں نوے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں بھاری اسلحے کا استعمال روک دے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور شام پر عالمی مندوب کوفی عنان نے شام میں قتل عام کی مذمت کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے صدر بشار الاسد سے کہا ہے کہ وہ ’اپنا قاتلانہ‘ اقتدار ختم کریں۔

شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین نے حولہ میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبصرین نے بتیس بچوں سمیت نوے افراد کی لاشوں کی گنتی کی ہے۔

شام نے دہشتگردوں گروہ کو اس قتل عام کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ قتل عام کی جگہ سے ٹینک اور آرٹلری فائرنگ کے شواہد ملے ہیں۔

شام میں اقوام متحدہ کے نگران مشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مبصروں نے کم از نوے لاشیں دیکھی جن میں دس سال سے کم عمر کے بتیس بچے بھی شامل ہیں۔

برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ وہ اس ’گھناؤنے جرم‘ کے خلاف پرزور بین الاقوامی توجہ چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ فرانس کے وزیرِ خارجہ لارنس فیبیو اور عرب لیگ نے بھی اس تشدد کی مذمت کی ہے۔

حکومتی افواج کی حولہ میں گولہ باری کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں جس کی تصدیق نہیں ہو سکی بچوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

مسٹر فیبیو نے کہا ہے کہ وہ شام کی حزبِ اختلاف کی حمایت کرنے والے ممالک جنہیں ’فرینڈز آف سیریا گروپ‘ کہا جاتا ہے کے اجلاس کے فوری انتظامات کر رہے ہیں جن میں عرب اور مغربی ممالک شامل ہونگے لیکن اس اجلاس میں چین اور روس کو شامل نہیں کیا جائےگا جنہوں نے شام کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں پر روک لگا دی تھی۔

ان اعداد و شمار کے درست ہونے کی صورت میں یہ حملہ اپریل میں رائج کی گئی جنگ بندی کے بعد شام میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے چند شہروں کے بڑے حصے پر صدر بشارالاسد کے مخالفین کا قبصہ ہے۔

بان کی مون نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط میں کہا ہے کہ شام کی صورتِ حال بہت سنجیدہ ہے اور دوسرے ممالک کو کسی بھی فریق کو ہتھیار مہیا نہیں کرنے چاہیئیں۔

اس سے پہلے شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے ترجمان نے کہا تھا کہ کوفی عنان دمشق کا دورہ کریں گے۔

اگرچہ کوفی عنان کے ترجمان نے اس دورے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی تاہم جنیوا میں سفارت کاروں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اقوامِ محتدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان اگلے ہفتے شام کا دورہ کریں گے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہروں پر کیے گئے تشدد میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوئے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق حزب اختلاف کے کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں بچوں کی مسخ شدہ لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی سیکورٹی فورسز نے متعدد خاندانوں کو ایک قصبے پر حملے کے دوران ہلاک کیا۔

شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندی کے باعت ان اطلاعات کی تصدیق بہت مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں