لڑکیوں کے سکول پر حملہ، طالبان کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم ایک شدید مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

افغانستان میں طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبات کے ایک سکول پر زہریلے مواد سے ہونے والے حملے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس نوعیت کے حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس طرح کے حملوں میں ملوث افراد کو شرعی قوانین کے مطابق سزا بھی دیں گے۔

لڑکیوں کے حصولِ تعلیم کے مخالف مسلح گروہوں پر حال ہی میں زہریلے کیمیائی مواد سے سکولوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہیں۔

تازہ ترین واقعے میں تخار صوبے میں ایک سکول کی طالبات کوسر چکرانے اور متلی کی علامات کے ساتھ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

چند روز قبل اسی سکول کی تقریباً ایک سو طالبات کو ملتی جلتی علامتوں کے ساتھ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ہوا میں زہریلے کیمیائی مواد کا سپرے کیا گیا ہو۔

گزشتہ ماہ کے دوران ملک کے مشرقی حصّے میں دو سکولوں کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔

ترجمان ذبیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان اس طرح کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور طالبان کا وعدہ ہے کہ اگر وہ قصورواروں کو پکڑنے مںی کامیاب ہو گئے تو انہیں شریعت کے مطابق سزا دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اسلامی ریاستِ افغانستان کے مجاہدین (طالبان) ان واقعات میں ہرگز ملوث نہیں اور ان الزامات کی شدید تردید کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کا انفرادی عمل بھی ہو سکتا ہے۔

طالبان نے اپنے دورِ حکومت سنہ انیس سو چھیانوے سے دو ہزار گیارہ تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا رکھی تھی۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں تاہم زہریلے مواد کے استعمال کی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں۔

افغان وزارتِ تعلیم گیارہ طالبان حمایتی صوبوں میں پانچ سو سکولوں کے بند کرائے جانے کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اسی بارے میں