پاکستان کے ہاتھوں لٹنے والے نہیں: امریکی وزیر دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ پاکستان تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں لیکن ان کو بہتر کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے: امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے لیے رسد کے معاملے پر ’لٹنے‘ کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستان نے سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی کو روک دی تھی۔

امریکی اہلکار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین سے گزرنے کے عوض فی ٹرک ہزاروں ڈالر کی رہداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ فی ٹرک ڈھائی سو ڈالر ادا کرتا تھا۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے راستے رسد کی منصفانہ قیمت چاہتا ہے لیکن ’ ہم پاکستان کے ہاتھوں لٹنے والے نہیں ہیں‘۔

امریکی چینل اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں لیکن ان کو بہتر کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے کیونکہ پاکستان جوہری ہتھیار رکھنا والا ملک ہے۔

اسامہ بن کا لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے میں سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سزا پر امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ انتہائی تکلیف امر ہے کہ پاکستان اس شخص کو سزا سنائےگا جس نے وقت کے سب سے بڑے دہشتگرد کی تلاش میں مدد دی۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ شکیل آفریدی کو سزا دونوں ملکوں کے مابین رشتوں کو پھر سے استوار کرنے کے عمل میں مددگار نہیں ہے۔

لیون پنیٹا کہا کہ پاکستان کو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستان کے خلاف کام نہیں کر رہا تھا۔’ میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان بالاخر یہ سمجھ لے گا کہ ڈاکٹر آفریدی پاکستان کے خلاف کام نہیں کر رہا تھا۔‘

دہشتگردوں کے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے رشتے انتہائی پیچیدہ ہیں۔

’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات انہتائی پیچیدہ ہیں۔ لیکن ہمیں پاکستان کے ساتھ ہی کام کرنا ہے ۔ انہوں نے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاکستان جوہری ہتھیار ہیں اور خطے کے استحکام کے لیے پاکستانی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا:’ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کو باور کرانے کی کوشش کرتے رہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کا امریکہ کےساتھ تعاون کتنا اہم اور ضروری ہے۔‘

افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کمزور ضرور ہوئے ہیں لیکن ختم نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا طالبان ان تمام علاقوں کو نیٹو اور افغان افواج سے واپس حاصل نہیں کر سکے ہیں جنہیں طالبان سے چھین لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں