افغانستان میں گاؤں کی پہلی خاتون سربراہ

 Zarifa Qazizadah تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ظریفہ کو لوگوں کی توجہ سے بچنے کے لیے نقلی مونچھوں اور مردانہ لباس کی مدد سے اپنی شناخت چھپانا پڑتی ہے۔

افغانستان میں ایک خاتون کے لیے رہنما بننا ایک غیر معمولی بات ہے لیکن ظریفہ قاضی زاد ملک کی پہلی عورت ہیں جو ایک گاؤں کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے یہ مقام اپنی شخصیت کے دبدبے اور اپنے عزم سے حاصل کیا اور اس کے لیے انہیں جنسِ مخالف کا لباس بھی زیبِ تن کرنا پڑا۔ انہوں نے نقلی مونچھیں لگائیں رات کو گاؤں کی گلیوں میں موٹر سائیکل چلایا۔

ظریفہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے گاؤں کے مردوں سے کہا مجھے صرف آپ کی دعائیں چاہئیں۔ جب آپ لوگوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوگا تو آپ کے لیے میں حکومت سے بات کروں گی اور اگر رات کے وقت کبھی کوئی پریشانی ہوئی تو میں اپنی بندوق اٹھاؤں گی اور اپ کے گھر پہنچ جاؤں گی یہ جاننے کے لیے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

پندرہ بچوں کی ماں ظریفہ قاضی زاد جب پہلی مرتبہ سیاسی دفتر گئیں اور مقامی مردوں کو بتایا کہ وہ اپنے گاؤں میں بجلی لگوانا چاہتی ہیں تو وہ ان پر ہنسنے لگے۔

یہ دو ہزار چار کی بات ہے۔ ظریفہ انتخابات ہار گئیں تاہم انہوں نے گاؤں کے لیے بجلی حاصل کر لی۔ دو برس بعد ہی مقامی مردوں نے خود ان سے کہا کہ وہ گاؤں ’نوآباد‘ کے سربراہ کے عہدے کے لیے درخواست دیں۔ یہ گاؤں افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ میں واقع ہے۔

اب وہ بجلی کی فراہمی کی نگرانی کرتی ہیں اور اگر کوئی بجلی چوری کرنے کا ارادہ بھی کرے گا تو انہیں ظریفہ سے بچنا ہوگا۔

ظریفہ کہتی ہیں کہ ’میں ایسا نہیں ہونے دوں گی، ہمیں قانون کا احترام کرنا چاہئیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’جب گاؤں میں رات کے وقت کچھ ہوتا ہے تو مجھے فوری ردِ عمل کرنا ہوتا ہے۔ میں مردانہ کپڑے پہنتی ہوں اور اپنی موٹر سائیکل لے کر نکل پڑتی ہوں۔‘

افغانستان کے دیہاتی علاقوں میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا ایک غیرمعمولی بات ہے اور اسی لیے ظریفہ کو لوگوں کی توجہ سے بچنے کے لیے نقلی مونچھوں اور کپڑوں کی مدد سے اپنی شناخت چھپانا پڑتی ہے۔

ظریفہ اپنے دیہات کے لوگوں کی ہر ممکن مدد کرتی رہی ہیں انہوں نے کئی لوگوں کی گڑھوں میں پھنسی جیپیں ٹریکٹر کی مدد سے نکالیں۔

ان کے ایک حمایتی مقامی شخص مولوی سید محمد کا کہنا ہے ’انہوں نے ایسے کام بھی کیے ہیں جو مرد بھی نہیں کر سکتے۔‘

انتخابات میں ناکامی کے باوجود انہوں نے اپنے گاؤں کے لیے بجلی کے حصول کا وعدہ پورا کرنے کی خاطر اپنی چار سالہ بیٹی کے ہمراہ دارالحکومت کابل تک کا سفر کیا۔ وہ سیدھی بجلی کے وزیر شاکر کارگر کے گھر پہنچ گئیں اور ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیر نے اگلے روز اپنے دفتر میں ملاقات کی حامی بھری اور ملاقات کے بعد ان کے گاؤں کے لیے بجلی کی اجازت دے دی۔

اس معاملے میں صرف ایک مسئلہ تھا کہ گاؤں والوں کو تاروں اور تنصیبات کے لیے خود رقم دینا تھی۔ ظریفہ جنہوں نے پہلے ہی کابل جانے کے لیے اپنا کچھ زیور فروخت کر دیا تھا، جہاں سے ممکن ہوسکا رقم ادھار لی اور اپنا گھر بھی گروی رکھ دیا۔

پانچ ماہ بعد ان کے گاؤں کے ہر گھر میں بجلی موجود تھی۔ ظریفہ کہتی ہیں ’جب لوگوں کو علم ہوا کہ میں نے کیا کِیا ہے تو انہوں نے مجھے پیسے واپس ادا کرنا شروع کر دئیے۔‘

بجلی کے نظام سے حاصل ہونے والی رقم سے گاؤں کو ایک بڑی سڑک سے ملانے کے لیے ایک خطرناک دریا پر ایک نیا پل تعمیر کیا گیا۔

ظریفہ نے نوآباد نامی گاؤں کی پہلی مسجد کی عمارت کے لیے بھی پیسے دیے۔ ملک میں موجود دیگر مساجد کے برعکس یہ مسجد اس طرز پر تعمیر کی گئی ہے کہ اس میں مرد اور خواتین ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’جب لوگوں نے مجھے یہ کام کرتے دیکھا تو وہ میرے ساتھ شامل ہونے لگے۔ اب لوگ اپنے گاؤں میں نماز ادا کر سکتے ہیں اور مقامی بچوں کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دُور نہیں جانا پڑتا۔‘

یہ سب ایک ایسی عورت کے لیے عظیم کامیابی ہے جس کی محض دس برس کی عمر میں شادی ہو گئی تھی اور صرف پندرہ برس کی عمر میں وہ ماں بن چکی تھی۔

اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے ایک دُور دارز گاؤں میں اپنے شوہر کے خاندان کے ساتھ گذارا جہاں اُن کی حیثیت بقول ان کے ایک ملازم کی سی تھی۔

طالبان کے دور میں وہ اپنے شوہر کے ہمراہ علاقائی دارالحکومت مزارِ شریف منتقل ہو گئی تھیں۔ یہاں انہوں نے پہلی مرتبہ سماجی کاموں میں حصہ لیا جس کے دوران انہیں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے والدین کی مدد کرنا تھا۔ یہاں انہوں نے چُھپ کر نوجوان لڑکیوں کو پڑھنے لکھنے میں مدد بھی کی۔

اب چھپن برس کی عمر میں ان کے چھتیس پوتے پوتیاں ہیں۔ وہ خواتین کی ایک مقامی کونسل کی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں کی بھی سربراہ ہیں۔ وہ مقامی خواتین کے لیے اپنے گھر پر بڑے بڑے اجلاس کرواتی ہیں تاکہ وہ ان کی مثال کی پیروی کریں۔

ظریفہ پچاس خواتین کے ایک گروہ سے مخاطب تھیں ’میں بھی آپ کی طرح ایک خاتونِ خانہ تھی لیکن آج میں ایک ہزار لوگوں سے مل سکتی ہوں۔ میں حکام سے ملاقات اور ان سے مسائل پر بات چیت کرسکتی ہوں۔ مغربی ممالک میں ایک عورت صدر بن سکتی ہے۔ یہ عورتیں بہادر ہوتی ہیں اور بہت کچھ حاصل کرتی ہیں۔‘

اسی بارے میں