حولہ قتل عام: سلامتی کونسل کی شدید مذمت

ہولہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے پہلے امریکہ سمیت مغربی طاقتیں بھی حولہ میں قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کر چکی ہیں

شام کے شہر حولہ میں ایک سو آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان پر کو دمشق پہنچ رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ بھی شام کے ایک قریبی اتحادی روس کے دورے پر جا رہے ہیں۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیل سینڈفورڈ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ روس سے بات کریں گے کہ شام میں پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی اور ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کا یہ آخری موقع ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے شہر حولہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس شہر میں جمعہ کو ایک سو آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے اور چونتیس خواتین بھی شامل ہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حولہ شہر پر توپوں اور ٹینکوں سے گولے داغے گئے اور یہ واقعات اشتعال انگیز ہیں اور عام شہری کے خلاف طاقت کے استعمال کے حوالے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

شامی حکومت بھاری اسلحے کا استعمال روکے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے کچھ ممبر ممالک حولہ قتل عام میں شامی حکومت کو ملوث کر کے دنیا کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس میں نہ تو اقوام متحدہ کے نگران مشن کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے اور نہ ہی کسی اور نے یہ نہیں کہا کہ حولہ میں جو کچھ ہوا،شام حکومت پر الزام لگائیں۔‘

شامی سفیر بشر جعفری کے مطابق’یہ بہت قابل افسوس اور قابل مذمت ہے کہ جنرل موڈ کی بریفنگ ختم ہونے کے بعد کچھ ممالک کے ممبر چند منٹ کے بعد باہر آ گئے تاکہ آپ لوگوں کو واقعے کے بارے میں جھوٹ بتا کر گمراہ کر سکیں۔‘

اس سے پہلے شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدیسی نے کہا ہے کہ سینکڑوں مسلح جنگجو حولہ میں داخل ہوئے تھے جہاں انہوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

مسٹر مقدیسی کا کہنا تھا کہ ’مردوں، عورتوں اور بچوں کے سروں میں گولیاں مارنا شام کی بہادر فوج کا شیوہ نہیں ہے۔‘

اس سے قبل مغربی طاقتوں نے شام کے شہر حولہ میں نوے افراد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ نے شام میں نگران مشن کی طرف سے حولہ قصبے میں شہری ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں بھاری اسلحے کا استعمال روک دے۔

شام میں پرتشد واقعات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق تشدد کے تازہ واقعات میں تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق اتوار کو یہ ہلاکتیں شامی شہر حما میں ہوئیں ہیں۔ شہر میں باغی جنگجووں کے ٹھکانوں کو شامی فورسز کو نشانہ بنانے کے دوران یہ افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندی کے باعت ان اطلاعات کی تصدیق بہت مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں