یوآن اور ین کی براہ راست تجارت کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption .دسمبر میں چین اور جاپان کے سربراہان نے مارکیٹ قوانین کے مطابق باہمی تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

چین اپنی کرنسی یوآن اور جاپانی کرنسی ین کی براہ راست تجارت پر سے پابندی ختم کر رہا ہے۔

اس اقدام کا مقصد ایشیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔

اس اقدام کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک تجارت کے لیے امریکی ڈالر کو درمیانی کرنسی کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔

اس اقدام کا مقصد چین کا امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔

چین جاپان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے تاہم دونوں ممالک کے بیچ ماضی میں تناؤ بھی رہا ہے۔

چین کے مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ ’چائینہ فورن ایکسچینج ٹریڈ سسٹم‘ یعنی چین میں بیرونی کرنسی کی تجارت کا نگراں ادارہ، یوآن اور ین کی تجارت یکم جون سے شروع کر دے گا۔

پیپلز بینک آف چائینہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کرنسی کے تبادلے کی قیمت میں کمی آئے گی اور باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

گزشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کرنسی میں تجارت شروع کرنے پر متفق ہوئے تھے۔

اسی بارے میں