لائبیریا کے سابق صدر کو پچاس سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کو جنگی جرائم کے الزامات میں اقوامِ متحدہ کی ایک عدالت نے پچاس سال قید کی سنا دی ہے۔

گزشتہ ماہ چارلس ٹیلر پر سنہ انیس سو اکانوے اور دو ہزار دو کے دوارن سیئرا لیون میں ہونے والی خانہ جنگی میں باغیوں کی مدد کرنے کے جرائم ثابت ہو گئے تھے۔

دوسری جانب چونسٹھ سالہ ٹیلر اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ وہ بےقصور ہیں اور ان کے وکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

ان کا موقف ہے کہ پچاس سال کی سزا کا مطلب عمر قید ہے اور کسی کو عمر قید کی سزا دینا عدالت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں بی بی سی کی نامہ نگار اینا ہولیگن کا کہنا ہے کہ اپیل دائر کرانے میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

جج رچرڈ لوسک کے مطابق چارلس ٹیلر پر انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ بُرے جرائم ثابت ہوئے ہیں۔

جج کا کہنا تھا کہ پانچ سال کے عرصے میں ہونے والے ان جرائم میں لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے سے لے کر حاملہ خواتین کو ذبح کرنا تک شامل ہے۔

انہوں نے کہا ’اگرچہ مسٹر ٹیلر نے کبھی سی سیئرا لیون میں قدم نہیں رکھا لیکن ان کے قدموں کے نشان وہاں موجود ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’سیئرا لیون میں بہت سے شہریوں کی زندگیاں ان کی براہ راست کارروائی کی وجہ سے یا تو ختم ہو گئیں یا پھر تباہ ہو گئیں۔‘

اسی بارے میں