’روس کی پالیسی شام کے لیے خطرناک‘

ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت کے امکانات دن بہ دن بڑھ رہے ہیں

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ روس کی پالیسی شام میں خانہ جنگی کا باعث بنے گی۔

ہلیری کلنٹن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب روس اور چین دونوں نے شام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سخت اقدامات کی پھر سے مخالفت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے متنبہ کیا ہے کہ ہولا میں قتل عام کے بعد شام ’تباہ کن‘ خانہ جنگی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

شام میں باغی کمانڈروں میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر شامی فوج کارروائی نہیں روکتی تو کیا فائر بندی کو ترک کر دیا جائے یا نہیں؟

ایف ایس اے کے کرنل قاسم سعدالدین نے کہا ہے کہ اگر جمعہ تک حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو ایف ایس اے خود کو منصوبے کا پابند تصور نہیں کرے گی۔

لیکن ایف ایس اے کے سربراہ جنرل ریاض اسعد نے کسی ڈیڈ لائن سے انکار کیا ہے۔ اس کے بجائے انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوفی عنان یہ اعلان کریں کہ ان کا امن کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔

بی بی سی کے پال ووڈ کا، جو حال ہی میں شام کے تین ہفتے کے دورے سے واپس لوٹے ہیں، کہنا ہے کہ عملاً شام میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد پر ہولا میں قتلِ عام کے بعد سے جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے زبردست دباؤ ہے۔ محترمہ کلنٹن نے ڈنمارک کے اپنے دورے کے دوران کہا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت کے امکانات ہر دن بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے کوپن ہیگن میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’(روسی) کہہ رہے ہیں کہ وہ وہاں خانہ جنگی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں اور میں ان سے کہہ رہی ہوں کہ ان کی پالیسی خانہ جنگی میں تعاون کریگی۔‘

بان کی مون نے ترکی میں کہا کہ اقوام متحدہ کے مانیٹروں کو شام اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ وہاں جا کر وہ سوائے معصوموں کے قتل عام کے اور کیا دیکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’جہاں ناقابل بیان ظلم ہو رہا ہے ہم وہاں صرف تماش بین کا کردار نہیں نبھا سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وہاں جس طرح کا قتل عام ہوا ہے اس سے ملک ایسی خانہ جنگی میں چلا جائے گا جہاں سے واپسی مشکل ہو گی۔

اسی بارے میں